سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 115
سيرة النبي متر 115 جلد 4 جاتے ہیں۔تو اللہ تعالیٰ کی قدوسیت کا ثبوت یہ ہے کہ اس کی طرف سے آنے والے دنیا کو پاک کرتے ہیں۔محمد رسول اللہ یہ گندے لوگوں کو لیتا ہے اور اس کے ہاتھ میں آ کر وہ پاک ہو جاتے ہیں۔تیسری صفت عزیز یعنی غالب ہے ہر چیز اس کے قبضہ میں ہے۔وہ صرف نام کا ملک نہیں بلکہ اس کی ملوکیت ہمیشہ جاری ہے اور اس کا ثبوت یہ دیا کہ وَيُعَلِّمُهُمُ الكِتب وہ دنیا میں خدا کے قانون اور شریعت کو رائج کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ کے قانون کو دنیا میں نافذ کر کے اس کی عزیزیت ثابت کرتا ہے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آکر دنیا میں الہی قانون کو رائج کیا اور اس طرح بتا دیا کہ خدا عزیز ہے۔چوتھی چیز الْحَکیم ہے۔اس کی کوئی بات حکمت سے خالی نہیں۔اس کے مقابل رسول کا کام یہ بتایا کہ يُعَلِّمُهُمُ الْكِتَبَ وَالْحِكْمَةَ - بر بات جو وہ کہتا ہے اس کی حکمت بھی ساتھ ہی بیان کر دیتا ہے۔دنیوی بادشاہ ایسا نہیں کرتے وہ کہہ دیتے ہیں کہ بس ہمارا حکم ہے ایسا ہو وجہ کوئی نہیں بیان کرتے لیکن اللہ تعالیٰ ایسا نہیں کرتا حالانکہ دنیا کے بادشاہوں کی اس کے مقابل میں کوئی ہستی ہی نہیں۔لیکن وہ کہتے ہیں ہمارے سامنے کون بول سکتا ہے مگر اللہ تعالیٰ یہ نہیں کہتا بلکہ یہ کہتا ہے کہ اس میں تمہارا فائدہ ہے۔وہ انسان کی عقل پر حکومت کرتا ہے زبر دستی نہیں کرتا۔اور خدا کے حکیم ہونے کا ثبوت یہ ہے کہ محمد ہر شعبہ زندگی کے متعلق تعلیم دیتا ہے مگر اس کا مقصد ، اس کی غرض ، خوبیاں اور فوائد ساتھ بیان کرتا ہے۔تو اللہ تعالیٰ نے اپنی چار صفات کے مقابل چار کام بیان فرمائے۔مگر یہ کام رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہی آکر بیان نہیں فرمائے بلکہ قرآن مجید اور دیگر کتب سماویہ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کام پہلے سے چلے آتے ہیں۔مکہ کی تجدید کے موقع پر ابراہیم علیہ السلام نے دعا کی تھی کہ رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُولًا مِّنْهُمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمْ أيتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَبَ وَالْحِكْمَةَ وَيُزَكِّيهِمْ یعنی اے میرے رب ! میں نے اپنی اولاد یہاں لا کر بسائی ہے اور میں دعا کرتا ہوں کہ جس وقت اس قوم