سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 114
سيرة النبي عمال 114 جلد 4 حکمت۔یہ چار باتیں ہیں جو ہر جگہ نظر آتی ہیں لیکن ہر آنکھ بینا نہیں ہوتی اور ہر عقل رسا نہیں ہوتی ، ہر ذہن حقیقت کو سمجھنے والا نہیں ہوتا اس لئے ضروری ہے کہ سمجھانے کے لئے کوئی استاد بھی ہو اس لئے فرما یا هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّيِّنَ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ 4 وہی خدا ہے جس نے اُمّی لوگوں میں یعنی ان لوگوں میں جو صداقتوں سے بالکل بے بہرہ تھے اپنا ایک رسول بھیجا۔وہ باہر سے نہیں آیا کہ تم کہہ سکو کہیں سے سیکھ کر آیا ہے بلکہ وہ انہی میں سے تھا۔جیسے یہ اُمی تھے ویسا ہی وہ تھا۔اس نے کسی اور جگہ زندگی بسر نہیں کی کہ کہا جا سکے وہ کہیں سے علوم وفنون سیکھ کر آیا ہے۔یہ لوگ اس کی زندگی کے ہرلمحہ سے واقف ہیں اور جانتے ہیں کہ اس نے کسی سے سبق نہیں پڑھا، باہر سے کوئی تعلیم حاصل نہیں کی بلکہ وہ انہی میں سے ایک ہے۔وہ کیا کرتا ہے فرمایا يَتْلُوا عَلَيْهِمْ آیتِه وہاں پہلے الْمَلِكِ فرمایا تھا اور یہاں اس کے مقابل میں يَتْلُوا عَلَيْهِمْ أَيْتِهِ فرمایا۔یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی بادشاہت ثابت کرتا ہے۔بادشاہ اسے کہتے ہیں جس کی با قاعدہ حکومت ہو، فوج انتظام کرنے کے لئے اور پولیس مجرموں کو پکڑنے کے لئے موجود ہو، بدمعاشوں کی سزا یابی اور مقدمات کے تصفیہ کے لئے عدالتیں ہوں، جس کا سکہ رواں ہو۔یا پرانے زمانے میں بادشاہ کی یہ نشانی سمجھی جاتی تھی کہ جس کی مہر دنیا میں رائج ہو، جس کا تاج و تخت ہو۔غرضیکہ بادشاہت کے لئے کسی دلیل کی ضرورت ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے اپنی چار صفات بیان کی ہیں اور ان کے ثبوت کے لئے ہم نے یہ ذریعہ مہیا کیا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیج دیا ہے جو ان چاروں صفات کو دنیا میں ظاہر کرتا ہے۔پہلی صفت الملک بیان کی تھی۔اس کے متعلق فرمایا رسول کا کام یہ ہے کہ يَتْلُوا عَلَيْهِمْ آیتہ یہ وہ دلائل سناتا ہے جن سے پتہ لگتا ہے کہ دنیا کا کوئی بادشاہ ہے۔دوسری صفت القُدوس پیش کی تھی اس کے مقابل رسول کا کام یہ بتایا ویزکیھم کہ دنیا کو پاک کرتا ہے۔عالم کی علامت کیا ہوتی ہے؟ یہی کہ وہ دوسروں کو پڑھاتا ہے اور دوسرے لوگ اس کے ذریعہ عالم ہو