سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 113 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 113

سيرة النبي علي 113 جلد 4 اللہ تعالیٰ کی چار صفات اور رسول کریم علی کے چار کام 25 جنوری 1934 ء کو قصور میں حضرت مصلح موعود نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:۔” میں نے قرآن کریم کی تین آیات پڑھی ہیں جن میں رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تعلیم اور آپ کی بعثت کا مقصد بیان کیا گیا ہے۔اس کی تشریح کرنے کے بعد میں بتاؤں گا کہ سلسلہ احمدیہ نے اسے پورا کیا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے بِسْمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ 1 اے بندے! تو اس کلام کے پڑھنے سے پہلے کہہ میں اللہ کے نام کے ساتھ شروع کرتا ہوں جو بے انتہا کرم کرنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔اس کے بعد فرمایا سبحُ لِلهِ مَا فِي السَّمَوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ 2 - دنیا میں جدھر نگاہ ڈالو آسمانی طاقتیں بھی اور زمینی بھی یہ امر ثابت کر رہی ہیں کہ ان کا پیدا کرنے والا ہر عیب سے پاک اور مبرا ہے۔الْمَلِكِ الْقُدُّوْسِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ 3 - وه الْمَلِكِ یعنی بادشاہ ہے۔القدوس تمام پاکیزگیوں کا جامع ہے۔یعنی صرف عیوب سے ہی مبرا نہیں بلکہ ہر قسم کی خوبیاں بھی اپنے اندر رکھتا ہے۔الْعَزِيزِ غالب ہے دنیا کی کوئی طاقت اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔الْحَکیم اس کی تمام باتیں حکمت پر مبنی ہیں۔تو انہی چار صفات کو تم دنیا میں جلوہ گر دیکھو گے۔ایک خدا کی ملکیت ، ایک قدوسیت یعنی پاکیزگی، ایک غلبہ یعنی ہر چیز اس کے حکم کے نیچے چل رہی ہے اور ایک