سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 98
سيرة النبي علي 98 جلد 4 فرق نہیں۔جیسے بیوی کو اپنے ماں باپ پسند ہیں ویسے ہی میاں کو بھی اور آپ نے ایک ایسا گر بیان فرما دیا جس پر عمل کر کے دونوں فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔آپ نے حکم دیا که صله رحمی کرو اللہ تعالیٰ کے حکم کے ماتحت رحمی تعلقات کا لحاظ رکھو، قولِ سدید اختیار کر وہ یعنی ایک دوسرے کے ساتھ دھوکا نہ کرو غرضیکہ آپ نے نکاح کے متعلق تفصیلی ہدایات دیں۔جنہیں اگر میں بیان کروں تو یہ تقریر خطبہ نکاح بن جائے گی۔مختصر یہ ہے کہ اس موقع پر بھی آپ نے ربوبیت کی۔بیوی کی آمد کے موقع پر ربوبیت پھر بیوی گھر آتی ہے اور یہ وہ وقت ہوتا ہے جب شہوانی جذبات غالب آ سکتے ہیں۔یہاں رسول کریم ﷺ پھر آ موجود ہوتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ پہلے تھوڑا کام : ہمارا کر لو اور دعا کرو۔اس تعلق کے نتیجہ میں تمہاری آئندہ نسلیں ہوں گی ، مانا کہ تم نیک ہومگر ہو سکتا ہے کہ تمہاری اولا د شریر ہو تو بھی دنیا میں فساد پیدا ہوگا اور تمہارا قائم کیا ہوا تقویٰ ملیا میٹ ہو جائے گا اس لئے خدا سے دعا کرو کہ تمہارے ملنے کا نتیجہ تقویٰ ہو 5۔یہ ایسا وقت تھا کہ شہوت چاہتی تھی انسان شہوت کا بیج بوئے مگر روحانیت صلى الله چاہتی تھی کہ روحانیت کا بوئے مگر رسول کریم ﷺ آ کر بتاتے ہیں کہ بے شک تم شہوت کا بیج بود مگر روحانیت کی چاشنی کے ساتھ۔پھر اولاد پیدا ہوتی ہے۔جونہی بچہ پیدا بچہ کی پیدائش کے وقت ربوبیت ہوتا ہے آپ اُسی وقت اس کی ربوبیت کا خیال فرماتے ہیں اور اس کی تربیت کے لئے اپنی تفصیلی ہدایات دیتے ہیں کہ اور کسی قوم میں ان کی نظیر نہیں ملتی۔آپ کا حکم ہے کہ معا بچہ کے کان میں اللہ تعالیٰ کا نام لیا جائے۔بچہ اگر چہ اُس وقت بظاہر ایک بے جان چیز ہے مگر اس کے کان میں اللہ تعالیٰ کی بڑائی بیان کرنے کا حکم آپ نے دیا اور اس میں دو فائدے ہیں۔اول یہ کہ اس وقت کی بات کان میں پڑی ہوئی ضائع نہیں جاتی اور دوسرے یہ کہ والدین کو توجہ دلائی کہ اگر