سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 99
سيرة النبي علي 99 جلد 4 پیدائش کے وقت ہی اس کی تربیت کا حکم ہے تو بڑے ہو کر یہ کتنی ضروری ہوگی۔بچہ کی تربیت کا حکم جب اسے ڈرا ہوش آئے تو کم ہے کہ اسے تعلیم دلا 5- حتی کہ لڑکیوں کی تعلیم کے متعلق بھی تاکید فرمائی۔حتی کہ فرمایا جس شخص کی دولڑکیاں ہوں اور وہ ان کو تعلیم دلائے اور اچھی تربیت کرے تو اس کا ٹھکانہ جنت میں ہو گا۔۔گویا اسے اتنا ضروری قرار دیا کہ ماں باپ پر اس کا انتظام فرض کیا۔چنانچہ فرمایا قُوا أَنْفُسَكُمْ وَاَهْلِيكُمْ نَارَاہِ اس میں باطنی تعلیم بھی ہے اور ظاہری بھی اور دونوں کے لئے ماں باپ کو ذمہ وار قرار دیا اور فرمایا کہ دونوں تعلیموں سے اولاد کو آراستہ کر کے اسے جہنم سے بچاؤ۔جہنم سے مراد بیماری اور غربت وغیرہ بھی ہے جو جہالت کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہے اور پھر اخروی جہنم بھی مراد ہے گویا ہر قسم کی جہنم سے اولادکو بچانے کا حکم دیا۔بداخلاقی بھی جہنم ہے کہ بداخلاقی سے لوگ نفرت کرتے ہیں۔تو یہ آیت عام ہے اور اس میں ہر قسم کی آگ سے اولا د کو بچانے کا حکم دیا ہے۔اور مسلمان کا فرض قرار دیا کہ بچے کی بچپن کی حالت میں نگرانی کرے اور فرمایا کہ اگر اس میں خرابی پیدا ہوئی تو تم سے باز پرس ہوگی۔پھر بعض بچے یتیم رہ جاتے ہیں ان کے لئے بھی حکم دیا کہ تقیموں کی ربوبیت ان کے مال کی حفاظت کی جائے۔پھر بتایا کہ ان کے احساسات کا کس طرح خیال رکھا جائے، تعلیم کا کیا انتظام ہو۔غرض کہ ان کی پرورش کے لئے تفصیلی احکام صادر فرمائے۔گویا ان کو بھی خالی نہیں رہنے دیا۔باقی مذاہب میں یہ بات ہرگز نہیں۔وہاں اگر اپنی اولاد کی تربیت کا کوئی اصول ہے تو بیامی کے لئے نہیں اور اگر یتامیٰ کے لئے ہے تو اپنی اولاد کے لئے نہیں مگر رسول کریم ﷺ نے سب کو لے لیا ہے اور کسی کو اپنی ربوبیت سے باہر نہیں رہنے دیا۔جوانوں کی راہنمائی اس کے بعد انسان جوان ہوتا ہے اور جوانی کے متعلق آپ پھر تفصیلی احکام دیتے ہیں۔مثلاً یہ کہ جذبات میں