سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 97
سيرة النبي علي 97 جلد 4 ساری کوشش یہی ہو گی کہ دھوکا سے ، فریب سے جس طرح بھی ہو سکے اپنی نسل کو کسی پرانے خاندان سے وابستہ کرے۔مسلمانوں میں سید زیادہ معزز سمجھے جاتے ہیں اور ہندوؤں میں برہمن۔اور ایسا انسان ہمیشہ جس طرح بھی ہو اپنے کو کسی پرانے معزز خاندان کی طرف منسوب کرنے کی کوشش میں لگا رہے گا۔خوبصورتی کا محور ہمیشہ شہوت ہو گا اور حسب و نسب کا دھوکا، فریب اور جبر۔اپنے کو کسی معزز خاندان سے منسوب کرنے والوں کے متعلق ایک لطیفہ مشہور ہے۔ایک شخص کسی عدالت میں ادائے شہادت کے لئے گیا اور اپنی قومیت سید بتائی۔اس پر فریق ثانی نے اعتراض کیا۔عدالت نے اسی فریق کے ایک اور گواہ سے دریافت کیا کہ فلاں آدمی کی قومیت کیا ہے؟ اس نے کہا کہ یہ پکا سید ہے، اس کا باپ ہمارے سامنے موچی تھا لیکن اس کے سیّد ہونے کے تو ہم خود گواہ ہیں کیونکہ یہ ہمارے سامنے سیّد بنا ہے۔تو یہ بالکل بے ہودہ بات ہے۔محض سید کہلانے سے کیا بنتا ہے لیکن لاکھوں آدمی ہیں جو اپنی قومیت بدلنے میں لگے ہوئے ہیں۔تو نسب کی وجہ سے شادی کرنے والے کی زندگی کی بنیاد فریب اور جھوٹ پر ہو گی اور خوبصورتی کی وجہ سے شادی کرنے والے کی بنیاد شہوت پر۔مگر رسول کریم ﷺ نے بتایا ہے کہ اگر آج ہی تمہاری نیت ٹھیک نہیں تو آئندہ کیا ہو گا۔تم نکاح کی بنیاد بھی دین پر رکھو اس صورت میں تمہارے دونوں کام ہو جائیں گے اور تمہارے اعمال بھی دین کے گرد چکر لگائیں گے۔صلى الله نکاح کے بارے میں ربوبیت انتخاب کے بعد نکاح کی شرائط طے ہوتی ہیں اور پھر ان میں جھگڑا پیدا ہوتا ہے کہ مرد پر زیادہ ذمہ داریاں عائد ہوں گی یا عورت پر ، مرد والے عورت والوں پر حکومت کرنا چاہتے ہیں اور عورت والے مرد والوں پر لیکن یہاں بھی رسول کریم علی آ موجود ہوتے ہیں کہ یہاں بھی میری ایک بات سن لو۔مرد و عورت کو اللہ تعالیٰ نے وسة ایک ہی جنس سے پیدا کیا ہے 2 دونوں کے احساسات یکساں ہیں اور ان میں کوئی