سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 96 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 96

سيرة النبي علي 96 جلد 4 بیان کی گئی ہے وہ اس کا رب العلمین ہوتا ہے۔جو بندہ رَبُّ الْعَلَمِینَ بنتا ہے ہم سمجھیں گے کہ وہ کامل ہے۔اور رسول کریم ع کے متعلق ہم یہ دیکھتے ہیں کہ کیا آپ صلى الله نے عالم کی ہر شے پر نگاہ ڈالی اور اس کے فائدہ کے لئے کام کیا؟ اگر ڈالی تو ماننا پڑے گا کہ آپ کامل انسان تھے لیکن اگر ہر شے پر آپ کی نگاہ نہیں پڑی اور کوئی حصے ایسے رہ گئے ہیں کہ ان کے لئے آپ نے کوئی کام نہیں کیا تو آپ رَبُّ الْعَلَمِینَ نہیں کہلا سکیں گے۔اس کے لئے ہم کوئی مثال لیتے ہیں اور چونکہ نسل انسانی زیر بحث ہے اس لئے ہم جوان یعنی بنا بنا یا آدمی لیتے ہیں جسے ہر قوم تسلیم کرتی ہے اور جسے خدا تعالیٰ نے آئندہ نسلوں کا بیج بنایا ہے۔غور کرنا چاہئے کہ اس کی پہلی خواہش کیا ہوگی۔بائبل سے بھی ثابت ہے عقل بھی یہی کہتی ہے کہ اسی کی جنس سے جوڑا ہی اسے تسلی دے سکتا ہے۔دنیا کی خوبصورتی اور اس کی کوئی شے اسے تسلی نہیں دے سکتی جب تک اس کا ہم جنس جوڑا نہ ہو۔نوجوانوں کی ربوبیت جوش جوانی میں شہوات معقل پر غالب آ جاتی ہیں اور وہ کہتی ہیں کہ خواہشات کے دریا میں عذاب سے صلى الله لا پرواہ ہو کر کود پڑ۔اب ہم دیکھتے ہیں کہ کیا رسول کریم ﷺ نے اس حالت میں انسان کی ربوبیت کی ہے۔اور جب ہم غور کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے اس کے جوشِ جوانی کو دیکھ کر اس کی ربوبیت کی ہے۔آپ نے فرمایا کوئی شخص نسب کے لئے شادی کرتا ہے، کوئی حسب کے لئے ، کوئی خوبصورتی کے لئے نکاح کرتا ہے مگر میری نصیحت تمہیں یہ ہے کہ اس کے ساتھ نکاح کرو جو اخروی زندگی کی ترقی کا موجب ہوا کیونکہ اگر تم خوبصورتی کو دیکھ کر شادی کرو گے تو تمہاری ساری عمر کے اعمال خوبصورتی کے گرد ہی چکر لگاتے رہیں گے۔اور بڑے خاندان کی عورت سے شادی کرنے والے کا مطمح نظر تمام عمر یہی رہے گا کہ جس طرح بھی ہو اپنے کو بڑا بنائے۔جس شخص کی شادی کسی ایسے خاندان میں ہو جو معزز سمجھا جاتا ہو تو اس کی