سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 88
سيرة النبي علي 88 88 جلد 3 قربانیوں کی مزید اقسام قربانی کی ان دونوں قسموں کی آگے پھر دو تمیں ہیں۔ایک قربانی جسے دوسرے وصول کرتے ہیں۔(2) وہ قربانی جسے انسان خود پیش کرتا ہے۔پہلی قسم کی قربانی یہ ہے کہ مثلاً لوگ اسے اس لئے ماریں کہ وہ صداقت کو چھوڑ دے مگر انسان نہ چھوڑے۔اس کا نام ہم جبری قربانی رکھ لیتے ہیں۔اور دوسری قربانی یہ ہے کہ انسان کے پاس مال ہو اور وہ دوسروں کے فائدہ کے لئے اپنی مرضی سے اسے خرچ کرے۔اس کا نام ہم طوعی قربانی رکھ لیتے ہیں۔رسول کریم ﷺ کے ابتلا دونوں ہی قسم کے تھے۔آپ پر لوگوں نے جبر کیا اس لئے کہ آپ صداقت کو چھوڑ دیں مگر آپ نے اسے نہ چھوڑا۔اسی طرح آپ نے بہت سی قربانیاں ایسی کیں کہ جن کے لئے واقعات نے آپ کو مجبور نہیں کیا تھا۔پھر ان دونوں قسموں کی بھی آگے دو قسمیں ہیں:۔(1) اشکراہی یعنی ایسی قربانی جو انسان واقعات سے مجبور ہو کر پیش کرتا ہے مگر اس کا دل اسے ناپسند کرتا ہے۔اور (2) رضائی۔یعنی ایسی قربانی کہ انسان واقعات سے مجبور ہو کر اسے پیش کرتا ہے مگر پھر بھی اس کا دل اسے پسند کرتا ہے۔امراول کی مثال جنگ ہے کہ نیک لوگ اسے ناپسند کرتے ہیں لیکن پھر بھی دنیا کے نفع کے لئے اسی نا پسندیدہ شے کو قبول کر لیتے ہیں۔اور دوسری مثال لوگوں کی تعلیم کے لئے مال اور وقت خرچ کرنا ہے کہ اس قربانی کو وہ خوشی سے اور رغبت قلبی سے دینا پسند کرتے ہیں۔یا قوم کی راہ میں موت ہے کہ اپنے آپ کو خود تو ہلاک نہیں کرتے ، جب جان دیتے ہیں تو لوگوں کے فعل کے نتیجہ میں دیتے ہیں مگر خواہش رکھتے ہیں کہ خدا کی راہ میں موت آئے۔پس یہ قربانی کو جبری ہے مگر ہے رضائی یعنی دل اسے پسند کرتا ہے۔رسول کریم ﷺ کی قربانیاں دونوں ہی قسم کی تھیں۔آپ نے وہ قربانیاں بھی کیں جو استکرا ہی تھیں۔یعنی لوگوں کے نفع کے لئے آپ نے ایسے کام کئے کہ جو آپ کو ذاتی صلى