سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 87
سيرة النبي عمال 87 جلد 3 امریکہ والوں نے قانوناً اسے منع کر دیا ہے۔ہمارے ملک کے لوگ بھی اس کی ممانعت پر زور دے رہے ہیں اور گو گورنمنٹ نے ابھی تک ان کی اس بات کو تسلیم نہیں کیا لیکن امید ہے کہ مسلمانوں ، ہندوؤں اور مسیحیوں کی کوشش جاری رہی تو گورنمنٹ بھی تسلیم اور کر لے گی۔صلى الله رسول کریم ﷺ کی قربانیاں اب میں رسول کریم ﷺ کی بعض قربانیوں کا ذکر کرتا ہوں۔لیکن اس سے پہلے میں قربانی کی حقیقت کے متعلق کچھ تشریح کر دینا ضروری سمجھتا ہوں تا کہ آپ لوگ سمجھ سکیں کہ رسول کریم ﷺ کی قربانیاں کس شان کی تھیں۔قربانی کے متعلق یاد رکھنا چاہئے کہ اصل قربانی یہ نہیں ہے کہ انسان سے کوئی چیز زبردستی چھین لی جائے بلکہ یہ ہے کہ لوگوں کے نفع کے لئے ایسے حالات میں قربانی دی جاوے کہ اس سے بچنا انسان کے اختیار میں ہو۔دنیا میں ہزاروں لوگ ہر روز مرتے ہیں مگر کوئی نہیں کہتا کہ وہ قربانی کرتے ہیں۔ہزاروں لوگ ملک چھوڑ کر چلے جاتے ہیں مگر کوئی نہیں کہتا کہ وہ قربانی کرتے ہیں اور اس کی یہی وجہ ہے کہ موت انسان کے اختیار میں نہیں ہے اور ملک چھوڑنے والے لوگوں کے لئے نہیں بلکہ اپنے فائدہ کے لئے ملک چھوڑتے ہیں۔رسول کریم ﷺ کی قربانیوں کو آپ لوگ دیکھیں گے کہ وہ ایسی ہی ہیں کہ جن کو آپ نے اپنی مرضی سے پیش کیا اور لوگوں کے نفع کے لئے پیش کیا نہ کہ اپنے کسی فائدہ کے لئے۔دائمی عمل پھر چی قربانیوں کی بھی کئی قسمیں ہیں۔ایک وہ قربانی ہے جو وقتی ہوتی ہے اور دوسری وہ جو دائمی ہوتی ہے۔دائمی قربانی اعلیٰ ہے اور رسول کریم ﷺ کی قربانیوں میں یہی رنگ پایا جاتا ہے بلکہ آپ کی نسبت روایت ہے کہ آپ ہمیشہ تاکید فرماتے تھے کہ وہی نیک کام اچھے ہوتے ہیں جو دائمی ہوں 57۔پس ہمیشہ جب نیکی شروع کرو تو اسے ہمیشہ قائم رکھنے کی کوشش کرو۔