سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 89
سيرة النبي عمال 89 جلد 3 طور پر ناپسند تھے۔مگر دنیا کے قلع کے لئے آپ نے اپنے میلان کو قربان کر دیا جیسے آپ کی جنگوں میں شرکت۔اور ایسی قربانیاں بھی کیں کہ جنہیں آپ طبعا پسند فرماتے تھے جیسے مال اور آرام کی قربانیاں۔پھر قربانیوں کی یہ قسمیں بھی ہیں۔ایک وہ قربانیاں جو کسی عارضی مقصد کے لئے ہوں۔دوسری وہ قربانیاں جو کسی دائی صداقت کے لئے ہوں۔دوسری قسم کی قربانیاں اعلیٰ ہوتی ہیں کیونکہ وہ تمام ذاتی نفعوں کے خیال سے بالا ہوتی ہیں۔رسول کریم ﷺ کی قربانیاں جیسا کہ آپ لوگ دیکھیں گے اسی قسم کی تھیں۔آپ نے کسی عارضی مقصد کے لئے قربانیاں نہیں کیں بلکہ دائمی صداقتوں اور بنی نوع انسان کی ابدی ترقی کے لئے قربانیاں کی ہیں۔پس آپ کی قربانیاں کیا بلحاظ نیت کے اور کیا بلحاظ مقصد کے اور کیا بلحاظ قربانی کی کمیت اور کیفیت کے نہایت عظیم الشان ہیں بلکہ حیرت انگیز ہیں اور اگلوں اور پچھلوں کے لئے نمونہ۔آپ نے خود ہی دنیا کے دائمی نفع کے لئے اور دائمی صداقتوں کے قیام کے لئے خوشی سے قربانیاں نہیں کیں بلکہ آپ نے اپنے اتباع کو بھی یہی تعلیم دی کہ وہ بھی خوشی سے قربانیاں کریں تا کہ دنیا ترقی کرے۔چنانچہ آپ خدا تعالیٰ سے حکم پا کر فرماتے ہیں وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْ مِنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِنَ الْأَمْوَالِ وَالْاَنْفُسِ وَالثَّمَرَاتِ وَبَشِّرِ الصُّبِرِينَ الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُمْ مُصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رجِعُونَ 58 - ہم ضرور تمہارے ایمان کے کمال کو ظاہر کریں گے۔اس طرح سے کہ تمہیں ایسے مواقع میں سے گزرنا پڑے گا کہ تمہیں صداقتوں کے لئے خوف اور بھوک کا سامنا ہوگا اور مالوں اور جانوں اور پھلوں کا نقصان برداشت کرنا پڑے گا۔پس جو لوگ ان مشکلات کو خوشی سے برداشت کریں گے اور کہیں گے کہ خدا کی چیز خدا کی راہ میں قربان ہو گئی انہیں خوشخبری دے کہ ان کی یہ قربانیاں ضائع نہ ہوں گی۔لا