سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 73 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 73

سيرة النبي علي 73 جلد 3 جاری کئے اور ان کتب کو محفوظ کر دیا اور پھر ان کے ذریعہ سے یہ علوم اور خود مسلمانوں کے ایجاد کردہ علوم پین میں پہنچے۔اور اُس وقت جب کہ مسیحی علماء علوم کو پڑھنا کفر قرار دے رہے تھے جس طرح کہ آجکل بعض لوگ علوم جدیدہ کا پڑھنا کفر قرار دے رہے ہیں مسلمانوں کے ذریعہ سے یورپ کے نوجوانوں نے علوم کو سیکھا اور پھر ان پر مزید ترقی کر کے آجکل کے علوم کی بنیاد رکھی۔چنانچہ ایک یورپین مصنف لکھتا ہے کہ اہل یورپ کب تک دنیا کی آنکھوں میں خاک جھونکتے اور یہ کہتے رہیں گے کہ مسلمانوں نے علم کی خدمت نہیں کی حالانکہ واقعہ یہ ہے اگر سپین میں مسلمانوں کے ذریعہ علوم نہ پہنچتے تو ہم آج جہالت کی نہایت ابتدائی حالت میں ہوتے۔غرض رسول کریم ﷺ کی ہی تعلیم کا نتیجہ تھا کہ دنیا میں علوم کی ترقی کا وہ تسلسل قائم رہا ہے جس کے بغیر علمی ترقی بالکل ناممکن تھی۔علم ختم نہیں ہوتا تیسرا احسان آپ کا یہ ہے کہ آپ نے بزور اس امر کی تعلیم دی کہ علم کبھی ختم نہیں ہوتا۔دنیا میں لوگ ایک حد تک ترقی کر کے جب یہ کہتے ہیں کہ اب ترقی نہیں ہو سکتی تو علم مٹنا شروع ہو جاتا ہے اور تمام علوم اور قوموں کے تنزل کا موجب ہی یہ ہے کہ ایک حد تک پہنچ کر یہ خیال کر لیا جاتا ہے کہ اس سے اوپر اور کیا ترقی ہوگی۔رسول کریم ﷺے ہی وہ پہلے شخص ہیں کہ جنہوں نے اس خطرناک مرض کو معلوم کیا اور دنیا کے سامنے پیش کر کے اس سے اسے بچایا اور بڑے زور سے تعلیم دی کہ علم خواہ کوئی ہو کبھی ختم نہیں ہوتا۔پس ہمیشہ علم کی تحقیق کرتے رہو اور کبھی کسی جگہ پر ٹھہر نہ جاؤ۔یہ کتنا بڑا نکتہ ہے۔ہم لوگ اپنے ایمان کے لحاظ سے یہی مانتے ہیں کہ آپ سب سے بڑے عالم تھے۔آپ سے بڑھ کر نہ کوئی عالم ہوا اور نہ ہوگا۔مگر آپ بھی یہ دعا کیا کرتے تھے کہ رَبّ زِدْنِي عِلْمًا 38 اے خدا! میرا علم اور بڑھا۔اس کا یہ مطلب ہے کہ محمدعلی بھی علم کے انتہائی مقام کو نہیں پہنچ سکے اور خدا تعالیٰ کے بنائے ہوئے غیر محدود راستوں پر برابر آگے ہی آگے بڑھتے رہے اور ہمیشہ