سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 74
سيرة النبي عمال 74 جلد 3 اضافہ علم کی خواہش آپ کے دل میں موجزن رہی۔پس جب رسول کریم ﷺہے جو علم روحانی کے مکمل کرنے والے تھے دعا کرتے رہے کہ ان کا علم اور بڑھے تو کونسا علم ہوسکتا ہے جو ختم ہو جائے اور کونسا شخص ہو سکتا ہے جو کسی علم کو ختم کر لے۔اور جب علم کی حد کوئی نہ رہی تو معلوم ہوا کہ اہل علم کا یہ فرض ہے کہ اپنے اپنے شعبہ میں ہمیشہ مزید ترقی کے لئے کوشش کرتے رہا کریں اور کسی مقام پر پہنچ کر یہ خیال نہ کریں کہ اب ترقی نہیں ہو سکتی بلکہ ہمیشہ ترقی ہوتی رہے گی اور نئے علوم نکلتے رہیں گے اور ایجادات ہوتی رہیں گی۔ہر مرض کی دوا جس طرح رسول کریم ﷺ نے یہ احسان کیا ہے کہ علوم کسی مقام پر ختم نہیں ہوتے اسی طرح آپ کا یہ بھی احسان ہے کہ آپ نے یہ تعلیم دی کہ ہر اک انسانی ضرورت کا خدا تعالیٰ نے علاج مقرر کیا ہے اور کوئی ضرورت حقہ نہیں جس کے پورا کرنے کا سامان نہ موجود ہو۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں لِكُلِّ دَاءٍ دَوَاء 39 ہر مرض کا علاج خدا تعالیٰ نے مقرر فرمایا ہے۔یہ تعلیم آپ نے اُس وقت دی تھی جب کہ طب میں ہزاروں بیماریوں کے متعلق کہا جاتا تھا کہ ان کا کوئی علاج نہیں ہے۔اور آج بھی جب کہ طب اتنی ترقی کر گئی ہے اطباء کہتے ہیں کہ کئی بیماریوں کا کوئی علاج نہیں۔مگر رسول کریم ﷺ ایسے ملک میں پیدا ہو کر جہاں کوئی طبیب نہ تھا فرماتے ہیں کہ کوئی بیماری ایسی نہیں جس کی دوا نہ ہو۔تجسس کر و علاج پالو گے۔آپ کے اس حکم کے ماتحت مسلمانوں نے علم طب کی طرف توجہ کی اور بیسیوں بیماریوں کا علاج معلوم کر لیا۔اور اب یورپ کے اطباء اس تعلیم کی صداقت کو ثابت کر رہے ہیں کہ مختلف لا علاج سمجھی جانے والی بیماریوں کا علاج تلاش کر رہے ہیں اور کئی بیماریوں کا علاج دریافت کر چکے ہیں۔یہ تعلیم صرف امراض ہی کے متعلق نہیں بلکہ دوسری ضروریات کے متعلق بھی ہے اور اس اصل پر عمل کرنے والے ہمیشہ کامیابی کا منہ دیکھتے رہیں گے۔