سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 72 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 72

سيرة النبي علي 72 جلد 3 مذہب اور سائنس میں صلح دوسرا احسان آپ کا یہ ہے کہ آپ نے مذہب اور سائنس کی لڑائی کو دور کر دیا ہے۔آپ سے صلى الله لوگ سمجھتے تھے علم پڑھنے سے مذہب جاتا رہتا ہے۔رسول کریم یہ ہی وہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے یہ خیال قائم کیا کہ مذہب خدا کا کلام ہے اور دنیا خدا کا فعل ہے۔آگ جو جلاتی ہے تو اسے بھی خدا نے پیدا کیا ہے جس طرح اس نے اپنا کلام نازل کیا ہے۔پس اگر مثلا گرمی کے خواص پر غور کیا جائے تو یہ خدا تعالیٰ کے فعل پر غور صلى الله ہوگا نہ کہ مذہب کے مخالف۔غرض رسول کریم علی نے مذہب اور سائنس میں صلح کرا دی اور آپ نے فرمایا طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيضَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ وَّ مُسْلِمَةٍ 37 علم ، مذہب کے خلاف نہیں۔میرے ہر ماننے والے پر خواہ وہ مرد ہو یا عورت فرض ہے کہ علم پڑھے۔اس وقت غیر مذاہب والے کہتے ہیں کہ مسلمان جاہل ہیں۔مگر یہ ہمارا قصور ہے ہمارے رسول کا نہیں ہے۔اس اعتراض سے ہم شرمندہ ہوتے ہیں اور ہماری آنکھیں نیچی ہو جاتی ہیں۔مگر اس سے ہمارے رسول پر کوئی حرف نہیں آتا۔کیونکہ اُس وقت جب کہ مکہ والے علم حاصل کرنا ذلت سمجھتے تھے اور سارے مکہ میں صرف سات آدمی پڑھے لکھے تھے اور ان کو بھی صرف سیاسی ضرورتوں کی وجہ سے علم پڑھنے کی اجازت دی گئی تھی آپ نے یہ فیصلہ فرمایا تھا کہ طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيضَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ وَّ مُسْلِمَةٍ پڑھنا لکھنا ہر مسلمان مرد و عورت پر فرض ہے۔پس اگر آجکل مسلمان جاہل ہیں تو یہ قصور ہمارا ہے ہمارے آقا کا نہیں ہے۔۔اس نے یہی تعلیم دی ہے کہ علم سیکھنا ہر مسلمان کا فرض ہے۔اور یہ اسی کا نتیجہ تھا کہ مسلمانوں نے پچھلے علوم کو قائم رکھا اور نئے علوم کی بنیاد ڈالی جن سے آج دنیا فائدہ اٹھا رہی ہے۔اگر مسلمان پہلے علوم کی حفاظت نہ کرتے تو ارسطو کا فلسفہ اور بقراط کی حکمت آج کوئی نہ معلوم کر سکتا۔مسلمانوں نے ان کی کتب کے ترجمے کرائے اور جب کہ ان حکماء کے اپنے اہل وطن ان سے غافل ہو گئے تھے ان کے درس اپنی یو نیورسٹیوں میں