سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 69
سيرة النبي علي 69 جلد 3 مٹانے میں اور کسی نے حصہ نہیں لیا بلکہ آپ کے کام سے ہزارواں حصہ کم بھی کسی نے کام نہیں کیا۔رسول اللہ ﷺ کے احسانات اب میں آپ کے احسانات کی طرف آتا ہوں۔لیکن احسانات بیان کرنے سے پہلے میں ایک واقعہ بیان کر دیتا ہوں جو احسانات اور قربانیوں دونوں کے متعلق کام آئے گا۔یہ واقعہ مکہ کا ہے۔عتبہ جو ایک بڑا سردار تھا آپ کے پاس آیا اور آ کر کہنے لگا کیا تمہیں یہ اچھا لگتا ہے کہ آپس میں خونریزی ہو اور بھائی بھائی سے جدا ہو جائیں ؟ اگر نہیں تو میں ایک تجویز پیش کرتا ہوں اسے مان لو۔وہ تجویز یہ ہے کہ تمہاری کوئی نہ کوئی غرض ہے۔اگر تمہیں مال حاصل کرنے کی خواہش ہے تو ہم سب اپنے اموال کا ایک حصہ تمہیں دینے کے لئے تیار ہیں۔اس طرح تم بہت بڑے مالدار بن جاؤ گے۔اور اگر اس بات کی خواہش ہے کہ حکومت حاصل ہو تو ہم سب اس بات کے لئے تیار ہیں کہ تمہیں اپنا سردار بنائیں۔اور اگر خوبصورت عورت چاہتے ہو تو جس عورت کو پسند کرو وہ ہم تمہیں دینے کے لئے تیار ہیں۔اور اگر تم بیمار ہو تو بھی بتاؤ کہ ہم علاج کے لئے بھی تیار ہیں۔غرض عزت چاہتے ہو تو عزت دینے کیلئے تیار ہیں، اگر بادشاہت چاہتے ہو تو بادشاہت دینے کے لئے، اگر عورت چاہتے ہو تو عورت دینے کے لئے اور بیمار ہو تو علاج کرنے کے لئے ہم تیار ہیں۔مگر تم یہ کہنا چھوڑ دو کہ خدا ایک ہے۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا مجھے تمہاری ان چیزوں کی ذرہ بھر بھی پرواہ نہیں۔میرا جواب سنو۔یہ فرما کر آپ نے چند آیات قرآن کی تلاوت فرمائیں جن میں تو حید کی تعلیم تھی۔ان آیات کو سن کر عتبہ پر اتنا اثر ہوا کہ اس نے واپس جا کر کہا یہ نہ جھوٹا ہے اور نہ ساحر ہے ، اس کی مخالفت چھوڑ دو 36۔