سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 68 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 68

سيرة النبي عمال 68 جلد 3 چونکہ وہ ایک ظالمانہ جنگ میں شریک ہوا ہے اس لئے اس کا فرض ہے کہ وہ اپنی لیاقت کے مطابق خرچ جنگ ادا کر دے یا اس کے رشتہ دار کر دیں۔پھر یہ شرط لگا دی کہ اگر غلام کے رشتہ دار یا اہل ملک اس کو نہ چھڑوا سکیں اور اس کے پاس روپیہ نہ ہوتو ہر غلام کا حق ہے کہ وہ کہہ دے کہ میں آزاد ہونا چاہتا ہوں اور اس کا آقا مجبور ہوگا کہ اس کی طاقت کے مطابق خرچ جنگ اس پر ڈال دے اور اسے نیم آزاد کر دے کہ وہ اپنی کمائی سے قسط وار رو پید ادا کر کے اپنے آپ کو آزاد کرائے۔اور جس وقت یہ قسط مقرر ہواُسی وقت سے غلام کو عملاً آزادی حاصل ہو جائے۔پھر یہ حکم دیا کہ جو غلام کو مارے اس کی سزا یہ ہے کہ اس کا غلام آزاد سمجھا جائے۔پھر کئی گناہوں کا کفارہ غلاموں کو آزاد کرنا مقرر کیا تا کہ جو کوئی غلام رہ جائے وہ اس طرح آزاد ہو جائے۔اور پھر اسی پر بس نہیں کی آخر یہ بھی حکم دے دیا کہ حکومت کے مال میں غلاموں کا بھی حق ہے حکومت کو چاہئے کہ ایک رقم ایسی مقرر کرے جس سے وہ غلام آزاد کراتی رہے۔اب سوچو کہ غلامی تو ہر ملک میں رسول کریم ﷺ سے پہلے ہی پائی جاتی تھی آپ نے تو جاری نہیں کی۔آپ نے جو کچھ کیا وہ یہ کیا کہ اس کا دائرہ محدود کر دیا اور پھر ایسے سامان پیدا کر دیئے کہ عملاً غلام آزاد ہی ہو جائیں۔مگر باوجود اس کے اگر اسلام کے ابتدائی زمانہ میں غلام باقی رہ گئے تھے تو اس کی صرف اور صرف یہ وجہ تھی کہ اسلامی احکام کے ماتحت ان سے آقا ویسا ہی سلوک کرنے پر مجبور تھا جیسے کہ اپنے نفس یا اپنے عزیزوں سے وہ کرتا تھا۔اور غریب غلام جانتے تھے کہ ایک مسلمان کا غلام رہ کر اگر ان پر سو دو سو یا ہزار دو ہزار روپیہ خرچ ہوتا ہے تو آزاد رہ کر وہ سات آٹھ روپیہ سے زیادہ نہ کما سکیں گے اور اس میں انہیں اپنا کنبہ پالنا پڑے گا۔پس بہت سے تھے جو اس غلامی میں آزادی سے زیادہ آسائش پاتے تھے اور اسلامی احکام سے فائدہ اٹھا کر وہ اپنی تنگ حالت کو بدلنا نہیں چاہتے تھے۔پس رسول کریم مع غلامی کے قائم کرنے والے نہیں تھے بلکہ غلامی کے مٹانے والے تھے اور آپ سے بڑھ کر غلامی کے