سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 70
سيرة النبي عمال 70 جلد 3 احسانات کی قسمیں اب میں آپ کے احسانات کا ذکر کرتا ہوں۔احسان کئی قسم کے ہوتے ہیں۔ایک احسان وقتی ہوتے ہیں اور دوسرے لمبے عرصہ کے لئے۔پھر آگے ان کی دو قسمیں ہیں۔(1) طبعی یعنی فطرت کے تقاضا کے ماتحت۔جیسے ماں کے دل میں بچہ کی خدمت کا تقاضا ہوتا ہے۔(2) عقلی یعنی ایسا احسان جو عقل کے تقاضا کے ماتحت ہو۔مثلاً ایک مظلوم کو دیکھ کر رقم آ جاتا اور اس پر احسان کرنا۔یا ایک شخص کو جاہل دیکھ کر اس پر رقم کر کے اسے علم پڑھا دینا۔پھر آگے عقلی احسان کی بھی دو قسمیں ہیں۔(1) ایسا احسان جس کا بدلہ لینے کی امید ہوتی ہے۔مثلاً کسی کو علم پڑھاتے ہیں تو امید ہوتی ہے کہ وہ ہمارے خیالات کی آگے اشاعت کرے گا۔(2) طبعی عقلی یعنی خواہش احسان تو بوجہ دلیل اور عقل کے ہوتی ہے مگر وہ اس قدر بڑھ جاتی ہے کہ طبعی کی طرح ہو جاتی ہے۔انسان احسان کرنے کے لئے بے چین ہو جاتا ہے۔اس کی آگے پھر دو قسمیں ہیں۔ایک وہ احسان جو اپنے آپ کو خطرہ میں ڈالے بغیر کیا جاتا ہے۔جیسے کسی کے پاس مال ہو اور وہ کسی پر احسان کر کے اسے کچھ مال دے دے۔دوسری قسم کا احسان یہ ہوتا ہے کہ انسان اپنے آپ کو خطرہ میں ڈال کر دوسرے پر احسان کرتا ہے۔مثلاً کسی کے گھر آگ لگی ہے اس میں کود کر اس کے مال کو یا اس کے گھر کے لوگوں کو بچانے کی کوشش کرتا ہے۔یہ احسان کی قسمیں ہیں۔ان کو مد نظر رکھ کر دیکھو تو معلوم ہوگا کہ رسول کریم صلى الله نے صرف احسان ہی نہیں کیا بلکہ اعلیٰ سے اعلیٰ احسان کیا ہے۔مثلاً آپ کے احسانات صرف عارضی نہیں ہیں ، اکثر دائمی ہیں۔اور پھر آپ کے احسانات صرف ان لوگوں تک محدود نہیں ہیں جو آپ کے رشتہ دار تھے بلکہ آپ کے احسانات اپنے دوستوں سے نکل کر واقفوں اور ان سے بھی گزر کر نا واقفوں تک پھیل گئے ہیں۔پھر یہ کہ آپ کے احسانات کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ان میں کسی نفع کی آپ کو امید