سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 65
سيرة النبي علي نے تو سچا دین مان لیا اور ہم نے نہ مانا۔59 65 جلد 3 نہدیہ اور ام عمیں اسی طرح نبید یہ اور ام عمیں دو کنیزیں تھیں جو سکی زندگی اورام عبیسی مصائب برداشت کئے۔عامر" میں اسلام لائیں اور دونوں نے اسلام لانے کی وجہ سے سخت عامر بن فہیر کا بھی ایک غلام تھے جنہیں حضرت ابوبکر نے آزاد کر دیا۔انہیں بھی اسلام لانے کی وجہ سے سخت تکالیف دی گئیں 33۔حمامہ رضی اللہ عنہا بلال کی والدہ تھیں۔یہ بھی اسلام لائیں اور اسلام کی خاطر حمامة انہوں نے تکالیف اٹھائیں 34۔ان کے علاوہ اور غلام اور لونڈیاں بھی تھیں جو آپ پر ایمان لائیں اور اس کی وجہ سے انہوں نے سخت تکلیفیں اٹھائیں۔غرض رسول کریم ﷺ کی نبوت کے ابتدائی سات سالوں میں گل چالیس افراد نے آپ کو مانا۔جن میں سے کم سے کم 14 ، 15 غلام تھے اور انہوں نے آزا دلوگوں صلى الله سے زیادہ تکالیف اٹھا ئیں۔اگر رسول کریم یہ غلامی قائم کرنے والے ہوتے تو یہ لوگ آپ کے دشمن ہوتے نہ کہ آپ پر ایمان لاتے۔آپ پر غیر مسلم غلاموں کی ہمدردی علاوہ ان غلاموں اور لونڈیوں کے جو آ ایمان لائے مکہ کے اکثر غلام اور لونڈیاں آپ سے ہمدردی رکھتے تھے۔چنانچہ حضرت حمزہ کے ایمان لانے کی موجب بھی ان کی ایک غیر مسلمہ لونڈی ہی تھی۔جس کی تفصیل یہ ہے کہ ایک دفعہ ابو جہل نے رسول کریم علیہ کو گالیاں دیں اور مارنے کے لئے اٹھا اور آپ کو بہت تکلیف دی۔حضرت حمزہ جو رسول کریم کے چچا تھے اور ابھی ایمان نہ لائے تھے ان کی ایک لونڈی دیکھ رہی تھی۔اسے بہت صدمہ ہوا اور سارا دن کڑھتی رہی۔جب حضرت حمزہ گھر آئے تو کسی بات کا بہانہ ڈھونڈ کر اس نے طعنہ دیا کہ بڑے بہادر بنے پھرتے ہو دیکھتے نہیں تمہارے بھتیجے کو ابو جہل نے کس طرح دکھ دیا ہے۔حضرت حمزہ شکار کے