سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 64 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 64

سيرة النبي عمال 64 جلد 3 عورت لونڈیاں جو شدید ترین دشمنوں کے گھر میں تھیں انہوں نے کس قربانی کے ساتھ آپ کا ساتھ دیا ہے۔اگر وہ یہ دیکھتیں کہ رسول کریم وہ غلامی کے دشمن نہیں اس صلى الله کے حامی ہیں تو کیا صنف نازک میں سے ہوتے ہوئے وہ اس طرح آپ کے لئے اپنی جان قربان کر سکتی تھیں۔عماری پانچویں مثال عمار کی ہے جو سمیہ کے بیٹے تھے۔انہیں جلتی ریت پر لٹایا جاتا تھا 30۔ایک غلام صہیب تھے جو روم سے پکڑے آئے۔عبداللہ بن جدعان کے غلام تھے۔جنہوں نے ان کو آزاد کر دیا تھا وہ بھی رسول کریم ﷺ پر ایمان لائے اور آپ کے لئے بہت سی تکالیف اٹھا ئیں۔ابو فکیھہ ایک غلام تھے وہ بھی رسول کریم عے پر ابتدائی ایام میں ابو فكيهة ایمان لائے۔انہیں بھی گرم ریت پر لٹایا جاتا۔ایک دفعہ رسی باندھ کر انہیں کھینچا جا رہا تھا کہ پاس سے کوئی جانور گزرا۔ان کے آقا نے ان کی طرف اشارہ کر کے انہیں کہا یہ تمہارا خدا ہے۔انہوں نے کہا میرا اور تمہارا خدا ایک ہی ہے۔اس پر اس ظالم نے ان کا گلا گھونٹا اور پھر بھاری پتھر ان کے سینہ پر رکھ دیا جس سے ان کی زبان باہر نکل آئی اور لوگوں نے سمجھا کہ مرگئے ہیں۔دیر تک ملنے ملانے سے انہیں ہوش آئی 31۔لبینڈ ایک کنیز تھیں۔یہ بھی نہایت ابتدائی ایام میں اسلام لائیں۔حضرت عمر اپنے اسلام لانے سے پہلے انہیں اسلام کی وجہ سے تکلیف دیا کرتے تھے۔لبينة مگر یہ اپنے اسلام پر قائم رہیں۔ر زن زنیرہ بھی ایک کنیز تھیں اور ابتدائی ایام میں ہی ایمان لائیں۔حضرت عمرؓ زنيرة اپنے اسلام لانے سے پہلے انہیں ستایا کرتے 32۔ابوجہل نے مار مار کر ان کی الله آنکھیں پھوڑ دیں۔مگر باوجود اس کے انہوں نے رسول کریم ﷺ کی رسالت کا انکار نہ کیا۔ابو جہل اسے دیکھ کر غصہ سے کہا کرتا تھا کہ کیا ہم اتنے حقیر ہو گئے ہیں کہ زنیرہ