سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 66
سيرة النبي علي 66 جلد 3 شائق تھے اور ادھر ادھر پھرنے میں وقت گزارتے تھے اور حالات سے زیادہ واقف نہ تھے۔لونڈی سے یہ بات سن کر ان کا دل اندر ہی اندر گھائل ہو گیا۔واقعہ کی تفصیل سنی اور غیرت سے بے تاب ہو کر باہر نکل آئے۔مجلس کفار میں آئے ، ہاتھ میں تیر کمان تھا۔لونڈی نے کچھ اس طرح واقعہ بیان کیا تھا کہ درد اور غصہ دونوں جذبات بے طرح 35 جوش میں تھے اور بات کرنے کی طاقت نہ تھی۔مجلس میں آ کر ایک دیوار سے ٹیک لگا کر کھڑے ہو گئے اور کمان پر سہارا لگا لیا۔بار بار بات کرنا چاہتے تھے مگر شدت غم سے منہ سے بات نہ نکلتی تھی۔اسی طرح کھڑے تھے کہ ابو جہل کی نگاہ پڑ گئی اور وہ بولا خیر ہے حمزہ ! تم تو اس طرح کھڑے ہو جس طرح انسان لڑائی پر آمادہ ہوتا ہے۔اس کا یہ کہنا تھا کہ یہ ٹوٹ پڑے، اس کے منہ پر تھپڑ مارا اور کہا کہ ظالم ! تیرے ظلموں کی کوئی انتہا بھی ہے تو نے محمد (ﷺ) کو حد سے بڑھ کر ستایا ہے۔لے! میں بھی مسلمان ہوتا ہوں اگر طاقت ہے تو آ مجھ سے لڑ لے! ابو جہل بھی مکہ کا سردار تھا اٹھ کر چمٹ گیا۔لیکن اردگرد کے لوگوں نے دیکھا کہ یہ جھگڑا مکہ کو بھسم کر دے گا صلح کرا دی۔اور اُس دن سے حضرت حمزہ کو اسلام کی طرف توجہ ہوگئی۔ایک دو الله دن کے غور کے بعد فیصلہ کر لیا کہ اسلام سچا ہے اور اپنے ایمان کا اعلان کر دیا۔اسی طرح جب رسول کریم ع طائف گئے اور وہاں سے زخمی ہو کر واپس آئے تو ایک غلام نے ہی آپ سے ہمدردی کی اور آپ کی حالت کو دیکھ کر روتا رہا۔بات یہ ہے کہ سب غلام جانتے تھے کہ آپ ان کو آزاد کرانے کے لئے آئے ہیں نہ کہ ان کی غلامی کی زنجیروں کو اور مضبوط کرنے کے لئے۔اس لئے وہ سب آپ سے محبت رکھتے تھے اور آپ سے ہمدردی رکھتے تھے اور ان کا شروع زمانہ میں ایمان لانا اور سخت تکالیف اٹھانا اور آخر تک ساتھ دینا اس امر کا ثبوت ہے کہ مکہ کے تمام غلام اور تمام لونڈیاں اس امر کو سمجھتے تھے کہ محمد رسول اللہ علیہ کی تعلیم غلاموں کو آزاد کرانے والی ہے۔تبھی ان میں سے سب سے سب کے سب جو سمجھدار تھے آپ پر ایمان صلى الله