سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 61
سيرة النبي عمال 61 جلد 3 میں دولت ہاتھ آتے ہی یہ کام کیا ہے غلامی کا حامی کہلا سکتا ہے یا غلاموں کا۔غلاموں کی رائے پھر ایک مثل مشہور ہے کہ ماں سے زیادہ چاہنے والی کٹنی 25 کہلائے۔اب سیدھی بات ہے کہ غلاموں سے زیادہ کسی صلى الله کو ان کی آزادی کا خیال نہیں ہو سکتا۔دیکھنا یہ چاہئے کہ غلاموں کی رسول کریم علی کے متعلق کیا رائے تھی۔اگر غلام آپ کو اپنا محسن رکھتے ہیں تو ماننا پڑے گا کہ آپ غلاموں کے محسن تھے نہ کہ غلامی کے حامی۔اس کے متعلق میں ایک واقعہ پیش کرتا ہوں جس سے ظاہر ہے کہ غلام آپ کے کیسے دلدادہ تھے۔نبوت کی زندگی کے پہلے سات سال میں گل چالیس آدمی آپ پر ایمان لائے تھے۔ان میں سے کم سے کم پندرہ غلام تھے یا غلاموں کی اولاد تھے۔گویا گل مومنوں کی تعداد میں تینتیس فیصدی غلام تھے اور مکہ کی آبادی کا لحاظ رکھا جائے تو یوں کہا جا سکتا ہے کہ ابتدائی مومنوں سے نوے فیصدی غلام تھے۔مکہ کی آبادی دس بارہ ہزار کی تھی جس میں چالیس پچاس آدمی ایمان لائے تھے اور زیادہ سے زیادہ پانچ چھ سو غلام وہاں ہوگا۔پس کیا یہ عجیب بات نہیں کہ دس بارہ ہزار میں سے تھیں پینتیس آدمی ایمان لائے اور پانچ چھ سو آدمیوں میں سے پندرہ سولہ آدمی۔کیا غلاموں کا اس کثرت سے آپ پر ایمان لانا اس امر پر دلالت نہیں کرتا کہ غلام آپ کو اپنا رہائی دہندہ سمجھتے تھے۔غلاموں کا تکلیفیں اٹھانا یاد رکھنا چاہئے کہ رسول کریم نے پر ایمان لا کر جن لوگوں نے سب سے زیادہ تکلیفیں اٹھا ئیں وہ غلام ہی تھے۔رض خباب چنانچہ خباب بن الارت ایک غلام تھے جو لوہار کا کام کرتے تھے۔وہ نہایت ابتدائی ایام میں آپ پر ایمان لائے۔لوگ انہیں سخت تکالیف دیتے تھے حتی کہ انہی کی بھٹی کے کوئلے نکال کر ان پر انہیں لٹا دیتے تھے اور اوپر سے