سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 62 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 62

سيرة النبي عمال 62 جلد 3 چھاتی پر پتھر رکھ دیتے تھے تا کہ آپ کمر نہ ہلا سکیں۔ان کی مزدوری کا روپیہ جن لوگوں کے ذمہ تھا وہ رو پید ادا کرنے سے منکر ہو گئے۔مگر باوجود ان مالی اور جانی نقصانوں کے آپ ایک منٹ کے لئے بھی متذبذب نہ ہوئے اور ایمان پر ثابت قدم رہے۔آپ کی پیٹھ کے نشان آخر عمر تک قائم رہے۔چنانچہ حضرت عمرؓ کی حکومت کے ایام میں انہوں نے اپنے گزشتہ مصائب کا ذکر کیا تو انہوں نے ان سے پیٹھ دکھانے کو کہا۔جب انہوں نے پیٹھ پر سے کپڑا اٹھایا تو تمام پیٹھ پر ایسے سفید داغ نظر آئے جیسے کہ برص کے داغ ہوتے ہیں 26۔اب غور کرو اگر محمد مه غلامی قائم کرنے کے لئے آتے تو چاہئے تھا کہ خباب زید آپ کی گردن کاٹنے کے لئے جاتا ، نہ یہ کہ آپ کی خاطر گرم کوئلوں پر لوٹتھا۔پھر ایک اور غلام زید بن حارثہ تھے جو ایک عیسائی قبیلہ میں سے تھے۔ان کو کسی جنگ میں قید کر کے غلام بنایا گیا تھا۔وہ بکتے سکتے حضرت خدیجہ کے قبضہ میں آئے اور انہوں نے شادی پر سب جائیداد سمیت انہیں آنحضرت ﷺ کے سپرد کر دیا اور آپ نے انہیں آزاد کر دیا۔جب ان کے رشتہ داروں کو پتہ لگا کہ وہ مکہ میں ہیں تو ان کا باپ اور چچا آئے اور رسول کریم ﷺ سے کہا ان کو آزاد کر دیں۔آپ نے فرمایا میں نے آزاد کیا ہوا ہے جہاں چاہے چلا جائے۔اس پر اس کے باپ نے کہا چلو بیٹا۔مگر انہوں نے کہا آپ کی میرے حال پر بڑی مہربانی ہے مگر بات یہ ہے الله کہ محمد ﷺ سے پیارا مجھے کوئی نہیں ہے اس لئے میں انہیں چھوڑ کر نہیں جا سکتا 27۔اب غور کرو ایک نوجوان پکڑا ہوا آتا ہے ماں باپ کی یاد کے نقش اس کے دل پر جمے ہوئے ہوتے ہیں مگر جب باپ آ کر اسے کہتا ہے کہ ہمارے ساتھ چل ! تو وہ کہتا ہے مجھے محمد ﷺ کی صحبت سے اور کوئی چیز اچھی نہیں لگتی۔اس کے بعد وہ آپ کے دعوئی کے وقت آپ پر ایمان لاتا ہے اور آخر ایک دن اپنے خون سے حق رفاقت ادا کرتا ہے۔اب بتاؤ کہ کیا یہ فدائیت اور محبت ایک غلام کو اس شخص سے ہو سکتی تھی جو