سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 60 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 60

سيرة النبي عمال 60 جلد 3 کرنا تھا۔پس آپ نے مختلف خاندانوں کی بیویوں سے شادیاں کیں تاکہ وہ دین کے اس حصہ کو جو عورتوں سے تعلق رکھتا ہے سیکھ کر اپنی ہم جنسوں کو تعلیم دیں اور یہ ایک محض لہی غرض تھی۔اور آپ کا زیادہ شادیاں کرنا اور ان میں انصاف قائم رکھنا ایک بہت بڑی قربانی تھا نہ کہ عیاشی۔اور اب جب کہ میں یہ ثابت کر چکا ہوں کہ جس رنگ میں آپ نے عورتوں سے معاملہ کیا ہے وہ عیاشی نہیں بلکہ قربانی ہے تو یہ بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ جب کہ آپ نے اپنی امت کے انہی لوگوں کو ایک سے زیادہ بیویوں کی اجازت دی ہے جو آپ کی طرح عورتوں سے معاملہ کر سکیں تو اس حکم سے کسی ظلم کی بنیاد نہیں پڑی بلکہ دنیوی ترقی کے لئے ایک بہت بڑی قربانی اور ملک کی اخلاقی درستی کے لئے ایک بہت بڑی تدبیر غلامی کے لئے دروازہ کھلا رکھا گیا ہے۔باقی رہا غلامی کا اعتراض۔اس کے متعلق مجھے کچھ زیادہ کہنے کی ضرورت نہیں کیونکہ یہ ایک علمی مسئلہ ہے اور بہت سے پہلوؤں پر بحث کا محتاج ہے۔پس میں ایک صاف اور سیدھا طریق اس مسئلہ کے حل کرنے کے لئے اختیار کرتا ہوں۔کہا جاتا ہے کہ آپ نے غلامی کو رائج کر کے دنیا پر بہت بڑا ظلم کیا ہے۔میں کہتا ہوں کہ آؤ آپ کی زندگی پر غور کر کے دیکھ لیں کہ کیا آپ غلاموں کے حامی تھے یا غلامی کے حامی؟ اور یہ بھی کہ غلام آپ کے دوست تھے یا آپ کے دشمن؟ کیونکہ ہر ایک قوم اپنے فوائد کو دوسروں کی نسبت زیادہ سمجھ سکتی ہے۔پہلی بات کو معلوم کرنے کے لئے میں آپ کی جوانی کا ایک واقعہ بیان کرتا ہوں۔جب آپ کی شادی حضرت خدیجہ سے ہوئی ہے اُس وقت آپ کی عمر پچیس سال کی تھی اور اس عمر میں انسان کا دماغ حکومت کے خیالات سے بھرا ہوا ہوتا ہے۔حضرت خدیجہ نے شادی کے بعد اپنا سب مال اور اپنے سب غلام آپ کے سپر د کر دئیے اور آپ نے سب سے پہلا کام یہ کیا کہ اپنے سب غلاموں کو آزاد کر دیا۔اب بتاؤ کہ یہ شخص جس نے جوانی کے ایام