سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 48 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 48

سيرة النبي متر 48 جلد 3 رسول کریم ﷺ کے قدموں میں دفن ہونے کی جگہ مل جائے۔چنانچہ انہوں نے حضرت عائشہؓ سے کہلا بھیجا کہ اگر اجازت دیں تو مجھے آپ کے پہلو میں دفن کیا جائے 16۔حضرت عمر وہ انسان تھے جن کے متعلق عیسائی مؤرخ بھی لکھتے ہیں کہ انہوں نے ایسی حکومت کی جو دنیا میں اور کسی نے نہیں کی۔وہ رسول کریم ﷺ کو گالیاں دیتے ہیں مگر حضرت عمرؓ کی تعریف کرتے ہیں۔ایسا شخص ہر وقت کی صحبت میں رہنے والا مرتے وقت یہ حسرت رکھتا ہے کہ رسول کریم علیہ کے قدموں میں اسے جگہ مل ﷺ جائے۔اگر رسول کریم ﷺ کے کسی فعل سے بھی یہ بات ظاہر ہوتی کہ آپ خدا کی رضا کے لئے کام نہیں کرتے تو کیا حضرت عمر رضی اللہ عنہ جیسا انسان اس درجہ کو پہنچ کر کبھی یہ خواہش کرتا کہ آپ کے قدموں میں جگہ پائے۔حضرت عثمان کی شہادت تیسری شہادت میں آپ کے تیسرے خلیفہ کی پیش کرتا ہوں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کس قدر آپ کی عزت و احترام ان کی نظر میں تھا۔حضرت عثمان کے زمانہ میں بغاوت ہوگئی اور باغیوں نے یہ منصوبہ کیا کہ ان کو مار دیں۔اُس وقت حضرت معاویہؓ ان کے پاس آئے اور انہوں نے یہ تجویز پیش کی کہ چونکہ باغیوں کا خیال ہے کہ آپ کو مار کر کسی اور صحابی کو خلیفہ بنا لیں گے اس لئے آپ بڑے بڑے صحابہ کو باہر بھیج دیں۔مگر اُس وقت جبکہ بغاوت پھیل رہی تھی اور حضرت عثمانؓ کو اپنی جان کا خطرہ تھا انہوں نے کہا اے معاویہ ! یہ کس طرح مجھ سے امید کی جاسکتی ہے کہ میں اپنی جان بچانے کے لئے ان لوگوں کو مدینہ سے باہر بھیج دوں جنہیں محمد ﷺ نے جمع کیا تھا۔گویا انہوں نے اپنی جان قربان کر دی مگر صحابہ کو باہر بھیجنے کے لئے تیار نہ ہوئے۔اس لئے کہ ان کو محمد ﷺ نے جمع کیا تھا۔کیا یہ ادب اور یہ احترام اس شخص کے دل میں پیدا ہوسکتا ہے جس نے ساری عمر