سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 47
سيرة النبي عمال 47 جلد 3 انہیں کھلاتی۔خلفاء کی شہادتیں پھر میں آپ کے خلفاء کی شہادت کو لیتا ہوں۔عام طور پر یہ ہوتا ہے کہ جب کوئی کسی کا قائم مقام بنتا ہے تو اس کی مذمت کرتا ہے تا کہ اپنی عزت قائم کرے۔سوائے اس کے جسے خاص روحانی اور اخلاقی تعلقات ہوں۔حضرت ابوبکر کی شہادت ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ جو رسول کریم اے کے پہلے خلیفہ ہوئے جب ان کے وقت میں سارے عرب میں بغاوت ہوگئی اور لوگوں نے کہہ دیا ہم ٹیکس نہیں دیں گے تو آپ کو مشورہ دیا گیا کہ ان لوگوں سے مقابلہ پیش آ گیا ہے اس لئے رسول کریم ﷺ نے وفات سے قبل جو لشکر روانہ کیا تھا اسے روک لیا جائے۔پہلے بغاوت کو فرو کر لیا جائے اور پھر لشکر کو بھیجا جائے۔مگر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دل میں رسول کریم ﷺ کی اتنی عظمت تھی کہ اپنے باپ کا نام لے کر کہنے لگے کیا ابن ابی قحافہ کی یہ طاقت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بھیجے ہوئے لشکر کو روک لے۔خدا کی قسم ! اگر دشمن مدینہ میں آ کر ہماری عورتوں کو گھسیٹنے لگے تو بھی میں رسول کریم ﷺ کے بھیجے ہوئے لشکر کو نہیں روکوں گا15۔اس واقعہ کو سن کر کوئی کہہ سکتا ہے اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ بانی اسلام اپنے دعوی میں بچے تھے۔ہم بھی کہتے ہیں بے شک صرف اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا مگر اس سے یہ تو ضرور ثابت ہوتا ہے کہ وہ نہایت راستباز اور متقی انسان تھے کہ ان کی وفات کے بعد بھی ان کے قول کا پاس ان کے شاگردوں کو غیر معمولی حد تک تھا۔دوسری شہادت آپ کے دوسرے خلیفہ کی پیش کرتا حضرت عمرؓ کی شہادت ہوں اور وہ بھی موت کے وقت کی۔جب حضرت عمر فوت ہونے لگے تو انہوں نے اس بات کے لئے بڑی تڑپ ظاہر کی کہ آپ کو