سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 49
سيرة النبي متر 49 جلد 3 رسول کریم ﷺ کے ساتھ رہ کر آپ کی کوئی ٹھگی دیکھی ہو۔حضرت علی کی شہادت حضرت علی چونکہ آپ کے عزیز ترین رشتہ دار تھے اور ان کی ساری زندگی ہی آپ کی صداقت کی شہادت میں شہادت کا نتیجہ پیش کی جاسکتی ہے اس لئے ان کے کسی خاص واقعہ کو بیان کرنا میں ضروری نہیں سمجھتا۔یاد رکھو شہادت اُسی وقت کے لوگوں کی ہوتی ہے۔پس آپ کی بیوی کی شہادت پیش کی گئی کہ آپ کے اخلاق نہایت اعلیٰ تھے۔پھر آپ کے دوستوں، دشمنوں کی شہادت پیش کی گئی ہے۔پھر وفات کے بعد کے زمانہ کے متعلق شہادت پیش کی گئی ہے۔پھر کیا یہ ہوسکتا ہے کہ موقع کے لوگوں کی گواہی تو قابل اعتبار نہ سمجھی جائے اور بعد کے لوگ جو کہیں اسے درست مان لیا جائے؟ موقع صلى الله ہی کی گواہی اصل گواہی ہوتی ہے اور موقع کے دوست دشمن سب کہتے ہیں کہ محمد علی مقدس وجود تھے۔پھر کوئی وجہ نہیں کہ بعد میں آنے والے لوگ آپ کو مقدس نہ کہیں۔خدا تعالیٰ کے لئے غیرت دوسرا ثبوت آپ کے تقدس کا وہ غیرت ہے جو آپ خدا تعالیٰ کے متعلق رکھتے تھے۔ایک مشہور واقعہ ہے جس سے پتہ لگتا ہے کہ آپ کو خدا تعالیٰ کے لئے کس قدر غیرت تھی۔جب احد کی لڑائی ہوئی تو اس میں بہت سے مسلمان زخمی ہوئے۔خود رسول کریم ﷺ بھی زخمی ہو گئے اور دشمنوں نے سمجھا کہ آپ کو انہوں نے مار ڈالا ہے۔یہ سمجھ کر مکہ کے ایک سردار نے میدان جنگ میں بلند آواز سے کہا بتاؤ! محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کہاں ہے؟ آپ نے فرمایا کوئی جواب نہ دو۔کوئی جواب نہ پا کر اس نے کہا ہم نے محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کو مار دیا ہے۔پھر اس نے کہا ابوبکر کہاں ہے؟ رسول کریم ﷺ نے فرما یا کوئی نہ بولو۔اس نے کہا ہم نے ابو بکر کو بھی مار دیا ہے۔پھر اس نے کہا عمر کہاں ہے؟ حضرت عمرؓ جوش سے بولنے لگے کہ میں تمہاری خبر لینے کے لئے موجود ہوں مگر آپ نے انہیں روکا کہ جواب مت دو۔اس پر اس نے کہا ہم