سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 46 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 46

سيرة النبي علي 46 جلد 3 کبھی ٹھگی نہ کی ، کبھی کوئی شرارت نہ کی ، کبھی کوئی جھگڑا نہ کیا۔وصال کے بعد کی شہادتیں پھر کہا جا سکتا ہے کہ آپ بڑے آدمی تھے زندگی میں لوگ ان سے ڈرتے تھے اور کوئی مخالفانہ بات نہ کہہ سکتے تھے۔اس لئے میں اُس زمانہ کو لیتا ہوں جب کہ آپ فوت ہو گئے کہ اُس وقت آپ کے متعلق کیا شہادت ملتی ہے۔دوسری بیوی کی شہادت اس زمانہ کے متعلق بھی پہلے میں آپ کی ایک بیوی کی شہادت پیش کرتا ہوں اور وہ حضرت عائشہؓ ہیں جو آپ کی 9 بیویوں میں سے ایک ہیں۔کسی کی دو بیویاں ہوں تو اس کے متعلق شکایت پیدا ہو جاتی ہے مگر آپ کی 9 بیویاں تھیں اور بڑھاپے کی عمر کی تھیں۔اور وہ بیویاں تھیں جن کو کبھی پیٹ بھر کھانا نہ ملا تھا۔مگر کسی نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے جب پوچھا رسول کریم کے خلق کے متعلق تو کچھ بتائیے تو انہوں نے کہا كَانَ خُلُقُهُ الْقُرْآنُ 14 قرآن میں جن اخلاق حمیدہ کا ذکر ہے وہ سارے کے سارے آپ میں پائے جاتے تھے۔حضرت عائشہ کی محبت کا یہ حال تھا کہ کسی نے انہیں دیکھا کہ روٹی کھا رہی ہیں اور آنکھوں سے آنسو جاری ہیں۔کیوں رو رہی ہیں؟ تو کہا کیوں نہ صا یہ کیا ، آ روؤں۔رسول کریم ﷺ فوت ہو گئے مگر کبھی چھنے آٹے کی روٹی میں پکا کر ان کو نہ کھلا سکی۔اب جو میں ایسی روٹی کھا رہی ہوں تو میرے گلے میں پھنس رہی ہے۔اس وقت اگر رسول کریم ﷺ ہوتے تو میں انہیں یہ روٹی کھلاتی۔کسی کو جب ذرا آرام مل جاتا ہے تو وہ اپنے پیارے سے پیارے عزیزوں کو بھول جاتا ہے مگر حضرت عائشہ جو نو جوانی میں بیوہ ہو گئی تھیں، جنہیں کوئی دنیاوی آرام رسول کریم ﷺ کی زندگی میں حاصل نہ ہوا تھا وہ آپ کے اخلاق کی ایسی معتقد صلى الله صلى الله ہیں کہ جب انہیں اچھی چیز ملتی ہے تو کہتی ہیں کاش ! رسول کریم ﷺ ہوتے تو میں