سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 45 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 45

سيرة النبي علي 45 جلد 3 نہیں بلکہ ایسی مجلس میں پیش کی گئی ہے جو آپ کی مخالفت کے لئے منعقد کی گئی تھی اور اس لئے پیش کی گئی تھی کہ کس طرح لوگوں کو آپ کی طرف سے پھرایا جائے۔خادم کی شہادت پھر بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جو اپنے دوستوں سے بھی اچھا سلوک کرتے ہیں۔بیویوں سے بھی اچھا معاملہ کرتے ہیں۔بھائیوں سے بھی عمدگی سے پیش آتے ہیں۔مگر اپنے نوکروں پر سختی کرتے ہیں۔اس لئے یہ سوال ہو سکتا ہے کہ رسول کریم ﷺ کا سلوک نوکروں سے کیسا تھا۔اس کے لئے ایک ایسے شخص کی شہادت پیش کی جاتی ہے جو بچپن سے رسول کریم ﷺ کی خدمت میں رہا اور آپ کی وفات تک آپ کے پاس رہا۔وہ شخص انس تھے۔وہ بیان کرتے ہیں خواہ مجھ سے کوئی کام کتنا ہی خراب ہو جائے کبھی رسول کریم کے غصہ نہ ہوتے تھے اور نہ بری نظر سے دیکھتے تھے۔پھر آپ نے مجھے کوئی کام ایسا نہیں بتایا جو میں نہ کر سکتا تھا۔اور جو کام مجھے بتاتے آپ بھی میرے ساتھ اس میں شامل ہو جاتے اور آپ کبھی سخت کلامی نہ کرتے تھے 12۔معاملہ کرنے والے کی شہادت پھر کئی لوگ ایسے ہوتے ہیں جو اپنے دوستوں اور نوکروں سے بھی اچھا معاملہ کرتے ہیں مگر جب کسی سے مشارکت مالی انہیں ہو جاتی ہے تو پھر ان کی حقیقت ظاہر الله ہو جاتی ہے۔اس لئے رسول کریم ﷺ کے ساتھ جن لوگوں کو معاملہ پڑا ہم ان کی شہادت پر نگاہ ڈالتے ہیں۔قیس بن سائب ایک شخص تھا جس سے رسول کریم ﷺ نے مل کر تجارت کی تھی۔وہ مدتوں تک مسلمان نہ ہوا۔فتح مکہ کے بعد وہ آپ کے پاس آیا اور کسی نے بتایا کہ یہ فلاں شخص ہے۔آپ نے فرمایا میں تمہاری نسبت اسے زیادہ جانتا ہوں۔اس سے مل کر میں نے تجارت کی تھی۔اس نے کہا نِعْمَ الشَّرِيكُ لَا يُدَارِى وَلَا يُمَارِى وَلَا يُشَارِی 13 کہ اس سے اچھا شریک میں نے نہیں دیکھا۔اس نے