سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 44 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 44

سيرة النبي عليه 44 جلد 3 بہت بڑے دشمن کی شہادت مگر کوئی کہہ سکتا ہے کہ یہ ایک وقت اور ایک صلى الله حالت کے متعلق ہے اس لئے میں ایسی شہادت پیش کرتا ہوں جو رسول کریم ﷺ کے سب سے بڑے دشمن کی ہے اور بچپن سے لے کر ادھیڑ عمر تک کے زمانہ کے متعلق ہے۔اس شخص نے آپ کی مخالفت میں ہر طرح سے حصہ لیا تھا۔آپ پر پتھر پھینکے، آپ کے قتل کے منصوبے کئے۔اس کا نام النضر بن الحارث تھا۔یہ اُن 19 اشخاص میں سے تھا جو رسول کریم علیہ کے قتل کے منصوبہ میں شامل تھے۔جب دعویٰ کے بعد لوگ مکہ میں آنے لگے اور رسول کریم ﷺ کے دعوئی کا چرچا پھیلا تو مکہ کے لوگوں کو فکر پیدا ہوئی کہ حج کا موقع آ رہا ہے، بہت سے لوگ یہاں آئیں گے اور ان کے متعلق پوچھیں گے تو ان کو کیا جواب دیں گے۔اس کے لئے انہوں نے مجلس کی جس میں قریش کے بڑے بڑے سردار ا کٹھے ہوئے تا کہ سب مل کر ایک جواب سوچ لیں۔ایسا نہ ہو کہ کوئی کچھ کہے اور کوئی کچھ اور سب ہی لوگ ہم کو جھوٹا سمجھیں۔اُس مجلس میں مختلف جواب پیش کئے گئے۔ایک شخص نے کہا یہ کہہ دو جھوٹا ہے اُس وقت النضر بن الحارث کھڑا ہوا اور کہنے لگا قَدْ كَانَ مُحَمَّدٌ فِيُكُمُ غُلَامًا حَدَثًا أَرْضَاكُمْ فِيْكُمْ وَأَصْدَقَكُمْ حَدِيثًا وَأَعْظَمَكُمْ أَمَانَةً حَتَّى إِذَا رَأَيْتُمْ فِي صُدْغَيْهِ الشَّيْبَ وَجَاءَ كُمُ بِمَا جَاءَ كُمُ قُلْتُمُ سَاحِرٌ لَا وَاللَّهِ مَا هُوَ بِسَاحِرٍ 11 وہ بڑے جوش سے کہنے لگا جواب وہ سوچو جو معقول ہو۔محمد تمہارے اندر پیدا ہوا۔تمہارے اندر جوان ہوا۔تم سب اسے پسند کرتے تھے اور اس کے اخلاق کی تعریف کرتے تھے۔اسے سب سے سچا سمجھتے تھے۔یہاں تک کہ وہ بوڑھا ہو گیا اور اس کے سر میں سفید بال آگئے اور اس نے وہ دعویٰ کیا جو کرتا ہے۔اب اگر تم کہو گے کہ وہ جھوٹا ہے تو اسے کون جھوٹا مانے گا۔لوگ تمہیں ہی جھوٹا کہیں گے اس جواب کو چھوڑ کر کوئی اور جواب گھڑو۔یہ دشمن کی گواہی ہے اور بہت بڑے دشمن کی گواہی ہے۔پھر تائید کے لئے گواہی