سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 465
سيرة النبي علي وو 465 جلد 3 یعنی صحیح مطلب یہ ہے کہ اُسی کے ہتھیار سے اُس کی گردن کاٹ دی۔تیرھویں پیشنگوئی یہ تھی کہ " ہر چند کہ انجیر کا درخت نہ پھولے ٹس پر بھی میں خداوند کی یاد میں خوشی کروں گا۔اس میں بتایا کہ یہ نبی بنی اسرائیل میں سے نہ ہوگا۔بنی اسرائیل کی مثال بائبل میں انجیر سے دی گئی ہے۔چنانچہ انجیل میں آتا ہے کہ مسیح نے ایک انجیر کے درخت پر لعنت کی کہ اسے پھل نہ لگیں 61۔اور اس کی تفسیر مسیحی مفسر یہی کرتے ہیں کہ یہودی قوم کا خدا سے تعلق کٹ جائے۔پس اس کا مطلب یہ ہے کہ حبقوق نبی کہتا ہے کہ یہود جن میں سے وہ خود ہے تباہ ہو جائیں گے۔لیکن پھر بھی مجھے اس نبی کے ذریعہ خدا کے نام کا روشن ہونا اپنی قومی ترقی سے زیادہ پسند ہے اور میں اپنی قومی تباہی کو محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) کے ذریعہ سے ظاہر ہونے والے جلال کی وجہ سے بخوشی برداشت کرلوں گا۔رسول کریم میہ کے بارہ میں اس کے بعد ہم کچھ اور صدیاں پیچھے چلتے صلى الله ہیں جب کہ حضرت مسیح ناصری کا زمانہ حضرت مسیح ناصرتی کی پیشگوئی آتا ہے۔وہ انگورستان کی تمثیل پیش کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔پس جب باغ کا مالک آئے گا تو ان باغبانوں کے ساتھ کیا کرے گا۔انہوں نے اس سے کہا ان برے آدمیوں کو بری طرح ہلاک کرے گا اور باغ کا ٹھیکہ اور باغبانوں کو دے گا جو موسم پر اس کو پھل دیں۔یسوع نے ان سے کہا کیا تم نے کتاب مقدس میں کبھی نہیں پڑھا کہ جس پتھر کو معماروں نے رد کیا وہی کونے کے سرے کا پتھر ہو گیا۔یہ خداوند کی طرف سے ہوا اور ہماری نظر میں عجیب ہے اس لئے میں تم سے کہتا ہوں کہ خدا کی بادشاہت تم سے لے لی جائے گی اور اس قوم کو جو اس کے پھل لائے دے دی جائے گی۔اور جو اس پتھر پر گرے گا اس کے ٹکڑے ہو جائیں گے مگر جس پر وہ گرے گا اسے پیس ڈالے گا 62۔دوسری جگہ حضرت مسیح فرماتے ہیں۔میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ میرا جانا 66