سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 464
سيرة النبي عمال 464 جلد 3 ہے۔انہوں نے اسے کہا اے دشمن خدا! آج بھی تو ذلیل ہوا ہے یا نہیں؟ اس نے جواب دیا ایک سردار قوم کو اس کی قوم مار دے تو اس میں کیا ذلت ہے۔انہوں نے اس پر حملہ کیا لیکن چونکہ ان کی تلوار چھوٹی تھی اور اس کے پاس بھی تلوار تھی اس لئے کامیاب نہ ہو سکے۔آخر اس کے ہاتھ پر ان کی تلوار لگی اور اس کی تلوار گر گئی۔انہوں نے اس کی تلوار اٹھالی اور اسے مارنے لگے۔اس نے کہا دیکھ! میں سردار قوم ہوں میری گردن لمبی کر کے کاٹنا تا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) اسے دیکھ کر ڈرے۔حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کو اس سے اور زیادہ غصہ آیا۔انہوں نے پیچھے سے ہو کر اس کی گردن پکڑ لی اور اس کا خُو داٹھا کر سر کے عین نیچے سے اس کی گردن کو ننگا کیا اور اسی کی تلوار سے اس کا سرکاٹ دیا 59۔اور اس طرح اس کی آخری خواہش بھی پوری نہ ہوئی اور حبقوق نبی کی یہ پیشگوئی کہ ” تو بنیاد کوگردن تک نگا کر کے شریر کے گھر کے سر کو کچل ڈالتا ہے۔تو نے اس کے سرداروں میں سے اسے جو عالی درجہ کا تھا اسی کے بھالوں سے مار ڈالا‘ لفظاً لفظاً پوری ہوئی۔اب دو سوال باقی رہتے ہیں۔ایک یہ کہ پیشگوئی میں ہے کہ تو نے دشمن کو مارا لیکن مارا عبداللہ بن مسعودؓ نے۔اس کا جواب یہ ہے کہ نبی کے متبع کا کام در حقیقت رسول کا ہی ہوتا ہے۔دوسرا سوال یہ ہے کہ پیشگوئی میں بھالا آیا ہے مگر عبداللہ بن مسعودؓ نے تلوار سے مارا۔اس کا جواب یہ ہے کہ اردو بائبل میں بھالا لکھا ہے، انگریزی میں ٹیڑھی لکڑی ، فارسی میں سونٹا اور عربی میں تیر۔اس اختلاف سے معلوم ہوتا ہے کہ اصل عبرانی لفظ کے معنی نہ بھالا ہیں ، نہ تیر، نہ سونٹا بلکہ ہتھیار کے ہیں جس کا ترجمہ مختلف متر جموں نے مختلف کر دیا ہے۔یہ میرا خیال ہی نہیں بائبل کا ایک مفسر بھی تفسیر بائبل میں لکھتا ہے :۔"This were better translated thou didst smite through with his own weapons the head of his chieftains۔"60