سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 466
سيرة النبي علي 466 جلد 3 تمہارے لئے فائدہ مند ہے۔کیونکہ اگر میں نہ جاؤں گا تو وہ مددگار تمہارے پاس نہ آئے گا۔لیکن اگر جاؤں گا تو اسے تمہارے پاس بھیج دوں گا۔اور وہ آکر دنیا کو گناہ اور راستبازی اور عدالت کے بارے میں قصور وار ٹھہرائے گا۔گناہ کے بارے میں اس لئے کہ وہ مجھ پر ایمان نہیں لاتے۔راستبازی کے بارے میں اس لئے کہ میں باپ کے پاس جاتا ہوں اور تم مجھے پھر نہ دیکھو گے۔عدالت کے بارے میں اس لئے کہ دنیا کا سردار مجرم ٹھہرایا گیا ہے۔مجھے تم سے اور بھی بہت سی باتیں کہنی ہیں مگر اب تم ان کی برداشت نہیں کر سکتے۔لیکن جب وہ یعنی سچائی کا روح آئے گا تو تم کو تمام سچائی کی راہ دکھائے گا۔اس لئے کہ وہ اپنی طرف سے نہ کہے گا لیکن جو کچھ سنے گا وہی کہے گا۔اور تمہیں آئندہ کی خبریں دے گا۔وہ میرا جلال ظاہر کرے گا۔اس لئے کہ مجھ ہی سے حاصل کر کے تمہیں خبریں دے گا 63۔ان پیشگوئیوں میں حضرت مسیح نے مندرجہ ذیل باتیں بتائی ہیں :۔اول یہ کہ ایک مثیل موسی آئے گا۔کیونکہ خدا تعالیٰ کا آنا ایک شرعی نبی کے آنے پر جو مثیل موسی ہو دلالت کرتا ہے۔(2) یہ کہ وہ بنی اسرائیل سے نہ ہوگا (3) یہ کہ اس کی قوم میں ہمیشہ برگزیدہ لوگ پیدا ہوتے رہیں گے جو قوم کی ہدایت کا موجب ہوں گے۔(4) یہ کہ وہ موعود کونے کا پتھر ہو گا۔یعنی اس پر سب شریعتیں ختم ہو جائیں گی۔(5) یہ کہ اس کا مقابلہ دوسری اقوام سے ہو گا۔لیکن خواہ اس پر کوئی حملہ کرے یا وہ کسی پر حملہ کرے دونوں صورتوں میں وہ کامیاب رہے گا۔(6) یہ کہ وہ تسلی دینے والا ہو گا۔(7) یہ کہ وہ دنیا کو تین چیزوں سے تقصیر وار ٹھہرائے گا۔گناہ سے یعنی بوجہ مسیح کو نہ ماننے کے گناہ کے وہ لوگوں پر الزام لگائے گا۔یہاں گناہ محدود معنوں میں لیا گیا ہے اور مراد یہ ہے کہ ایک قوم کو مسیح کے انکار کی وجہ سے اور دوسری کو راستی سے یعنی مسیح کو چھوڑ بیٹھنے کی وجہ سے۔اور تیسری کو عدالت سے یعنی اس وجہ سے کہ وہ لوگ شیطان سے تعلق رکھتے ہوں گے قصور وار ٹھرائے گا۔گویا یہود انکار مسیح، نصاری غلو در مسیح