سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 454 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 454

سيرة النبي علي 454 جلد 3 دوسرے بات یہ بیان کی گئی ہے کہ إِذَا مَشَى تَقَلَّعَ كَأَنَّمَا يَنْحَطُّ فِي صَبَبٍ 44 - جب آپ چلتے تو آپ کا پاؤں زمین پر اس طرح پڑتا کہ گویا پاؤں دھنس گیا ہے۔معنی لرزانے کے یہ ہیں کہ آپ کا بے حد رعب تھا۔خود رسول کریم فرماتے ہیں نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مَسِيرَةَ شَهُرٍ 45۔یعنی ایک ایک مہینہ کے فاصلہ تک کے لوگ آپ کے رعب سے لرزتے تھے۔قرآن کریم میں بھی ذکر آتا ہے خدا تعالیٰ فرماتا ہے هُوَ الَّذِي أَخْرَجَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَبِ مِنْ دِيَارِهِمْ لِاَوَّلِ الْحَشْرِ مَا ظَنَنْتُمْ أَنْ يَخْرُجُوا وَظَنُّوا أَنَّهُمْ مَّا نِعَتُهُمْ حُصُونُهُمْ مِّنَ اللهِ فَآتُهُمُ اللَّهُ مِنْ حَيْثُ لَمْ يَحْتَسِبُوا وَقَذَفَ فِي قُلُوبِهِمُ ق الرُّعْبَ يُخْرِبُونَ بُيُوتَهُمْ بِأَيْدِيهِمْ وَأَيْدِى الْمُؤْمِنِينَ فَاعْتَبِرُوا يَأُولِي الْأَبْصَارِ 46 فرمایا وہ خدا ہی ہے جس نے اہلِ کتاب کے کفار کو ان کے گھروں سے نکالا۔تمہیں گمان تک نہ تھا کہ وہ نکل جائیں گے۔وہ بھی کہتے تھے کہ ہمارے قلعے ہمیں بچالیں گے مگر محمد رسول اللہ ہے کے رعب نے ان کو تباہ کر دیا۔وہ اپنے ہاتھوں سے اپنے گھروں کو تباہ کرنے لگے اور وہ بھاگ گئے۔غرض اللہ تعالیٰ نے رسول کریم کو یہ طاقت عطا کی کہ جہاں دشمن کے مقابلہ کیلئے جاتے لوگ آپ کے رعب سے لرز جاتے۔ساتویں پیشگوئی یہ بیان کی گئی ہے کہ اس نے نگاہ کی اور قوموں کو پراگندہ کر دیا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قومیں اس پر چڑھ آئیں گی لیکن جب وہ مقابلہ کرے گا تو بھاگ جائیں گی۔جنگِ احزاب کے موقع پر ایسا ہی ہوا جس کے متعلق سَيُهُزَمُ الْجَمْعُ وَ يُوَلُّونَ الدُّبُ : 47 میں پہلے ہی بتا دیا گیا تھا کہ قو میں جمع ہوکر حملہ کریں گی مگر پھر بھاگ جائیں گی۔آٹھویں پیشگوئی یہ کی گئی کہ " قدیم پہاڑ ریزہ ریزہ ہو گئے اور پرانی پہاڑیاں اُس کے آگے پھنس گئیں۔“ پہاڑ سے مراد بڑے بڑے آدمی، بادشاہ اور حکمران 66