سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 453 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 453

سيرة النبي عليه 453 جلد 3 صلى الله الله ہے وَعِنْدَ رِجُلَيْهِ خَرَجَتِ الْحُمَّى 39 کہ اس کے پاؤں کے پاس سے بخار نکل گیا یعنی جہاں اس کا پاؤں پڑے گا وہاں سے بخار نکل جائے گا۔گویا آتشی وبا سے مراد بخار ہے۔یہ بات بھی رسول کریم علیہ کے متعلق نہایت وضاحت سے پوری ہوئی۔حدیثوں میں آتا ہے کہ جب رسول کریم ﷺ مدینہ تشریف لے گئے تو وہاں بخار کی بڑی شدت تھی۔حتی کہ اسے یثرب اسی لئے کہتے تھے کہ وہاں ملیر یا بخار بڑی شدت سے ہوتا تھا۔جب صحابہ وہاں ہجرت کر کے گئے تو سب کو بخار آنے لگا۔اور صلى الله رسول کریم علیہ کو اس سے بڑی تکلیف ہوئی 40 قرآن کریم میں بھی مدینہ کا نام میثرب آتا ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِذْ قَالَتْ طَابِفَةٌ مِّنْهُمْ يَاهْلَ يَثْرِبَ لَا مُقَامَ لَكُمْ فَارْجِعُوا 41 اور یثرب کے معنی عیب اور ہلاکت کے ہیں۔جب الله رسول کریم علم مدینہ تشریف لے گئے اور صحابہ بخار سے بیمار ہو گئے تو حضرت عائشہ فرماتی ہیں رسول کریم ﷺ کو گھبراہٹ پیدا ہوئی اور آپ نے یہ دعا کی کہ اللهُمَّ الْعَنُ شَيْبَةَ بْنَ رَبِيعَةَ وَ عُتْبَةَ بْنَ رَبِيعَةَ وَ أُمَيَّةَ بْنَ خَلْفٍ كَمَا أَخْرَجُونَا مِنْ أَرْضِنَا إِلَى أَرْضِ الْوَبَاءِ 42۔اے خدا! شیبہ بن ربیعہ اور عتبہ بن ربیعہ اور امیہ بن خلف کو تباہ کر جنہوں نے ہمیں مکہ کی زمین سے نکال کر بخار کی سرزمین میں پہنچا دیا۔پھر فرمایا صَحْحُهَا لَنَا وَانْقُلُ حُمَّاهَا إِلَى الْجُحْفَةِ 43 - یعنی اے خدا! میں دعا کرتا ہوں کہ تُو یہاں سے بخار کو نکال دے اور جھہ کی طرف بھیج دے۔حدیثوں میں آتا ہے کہ صلى الله اس کے بعد مدینہ سے بخار دور ہو گیا اور رسول کریم علیہ نے فرمایا اب اسے یثرب نہ کہو کیونکہ اس میں عیب اور سزا اور ڈانٹ کے معنی پائے جاتے ہیں بلکہ اسے طیبہ کہو۔غرض رسول کریم ﷺ کے مدینہ تشریف لے جانے سے وہاں سے بخار نکل گیا اور اس کی ہوا آج تک نہایت اعلیٰ سمجھی جاتی ہے۔یہ خبر تھی جو اس پیشگوئی میں دی گئی۔چھٹی پیشگوئی یہ بیان کی گئی کہ وہ کھڑا ہوا اور اُس نے زمین کو لرزا دیا۔اس " کے ایک تو ظاہری معنی ہیں وہ یہ کہ رسول کریم ﷺ کا حلیہ لکھا گیا ہے اس میں ایک :