سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 455 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 455

سيرة النبي عمال 455 جلد 3 ہوتے ہیں۔رسول کریم میے کے مقابلہ میں جب قیصر و کسری آئے تو کس طرح اُن کا نام و نشان مٹ گیا۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ لَوَاقِع۔قَالَهُ مِنْ دَافِعَ - يَوْمَ تَمُورُ السَّمَاءِ مَوْرًا - وَتَسِيْرُ الْجِبَالُ سَيْرًا - فَوَيْلٌ يَوْمَبِذٍ لِلْمُكَذِّبِينَ 48 - کہ ہم اسلام کی ترقی کے متعلق جن باتوں کی خبریں دے رہے ہیں وہ ہو کر رہیں گی۔کوئی انہیں روک نہیں سکتا۔جب آسمان لرزہ کھا کر پھٹ جائے گا اور پہاڑ اپنی پوری رفتار کے ساتھ چلیں گے اس دن جھٹلانے والوں پر خدا تعالیٰ کا عذاب نازل ہوگا۔گویا قرآن بھی اس پیشگوئی کی تائید کرتا ہے۔معلوم ہوتا ہے لوگوں کو بھی حبقوق نبی کی اس پیشگوئی کا خیال تھا۔کیونکہ قرآن کریم میں قیامت کا نقشہ کھینچتے ہوئے خدا تعالیٰ فرماتا ہے وَقَدْ أَتَيْنَكَ مِنْ لَّدُنَّا ذِكْرًا۔مَنْ أَعْرَضَ عَنْهُ فَإِنَّهُ يَحْمِلُ يَوْمَ الْقِيِّمَةِ وِزْرا 49 کہ ہم نے تمہیں یہ قرآن دیا ہے جو اس کا انکار کرے گا قیامت کے دن سزا پائے گا۔اس کے بعد فرماتا ہے وَيَسْتَلُونَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ يَنْسِفُهَا رَ بِّيٌّ نَسْفًا - فَيَذَرُهَا قَاعًا صَفْصَفًا۔لا تَرى فِيهَا عِوَجًا وَلَا اَمْنًا يَوْمَبِذٍ يَتَّبِعُوْنَ الدَّاعِيَ لَا عِوَجَ لَهُ وَخَشَعَتِ الْأَصْوَاتُ لِلرَّحْمَنِ فَلَا تَسْمَعُ إِلَّا هَمْسًا 50۔یعنی کہتے ہیں کہ پہاڑوں کا کیا حال ہوگا تو کہہ دے کہ میرا رب ان کو اکھیڑ کر پھینک دے گا اور ان کو ایک ایسے چٹیل میدان کی صورت میں چھوڑ دے گا کہ نہ تو اس میں کوئی موڑ دیکھے گا اور نہ کوئی اونچائی۔اُس دن لوگ بچے امام کے پیچھے چل پڑیں گے جس کی تعلیم میں کوئی کبھی نہ ہوگی اور آواز میں خدائے رحمان کیلئے دب جائیں گی یعنی ادب والی آواز کے سوا تم کوئی اور آواز نہ سنو گے۔مفسرین کہتے ہیں ان آیات کا یہ مطلب ہے کہ قیامت کے دن پہاڑ اڑائے جائیں گے مگر یہاں پہلے قیامت کا ذکر آپکا ہے جس میں بتایا ہے کہ اُس وقت زمین و آسمان نہ رہیں گے۔اور جب زمین و آسمان نہ رہیں گے تو پھر پہاڑوں کے علیحدہ -