سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 439
سيرة النبي عمال 439 جلد 3 خداوند سینا سے آیا اور شعیر سے ان پر طلوع ہوا۔فاران ہی کے پہاڑ سے وہ جلوہ گر ہوا۔دس ہزار قدوسیوں کے ساتھ آیا اور اس کے داہنے ہاتھ ایک آتشی شریعت ان کے لئے تھی۔3۔سینا وہی پہاڑ ہے جسے قرآن شریف میں طور کہا گیا ہے۔اس سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ظہور مراد ہے۔شعیر سے بعض نے حضرت مسیح مراد لئے ہیں۔مگر یہ ان پہاڑوں کا نام بھی ہے جس میں سے گزر کر حضرت موسی آئے اور انہوں نے دشمن پر فتح پائی تھی۔اس لئے یہاں بھی حضرت موسی علیہ السلام مراد ہیں۔آگے فرماتا ہے ” فاران ہی کے پہاڑ سے وہ جلوہ گر ہوا۔دس ہزار قد وسیوں کے ساتھ آیا۔اس میں بھی دو باتیں بتائی گئی ہیں۔اول یہ کہ وہ فاران کے پہاڑ سے جلوہ گر ہوگا۔دوم یہ کہ دس ہزار قدوسیوں کے ساتھ آئے گا۔یہ دونوں باتیں ایک ہی وجود کے متعلق ہیں۔جس طرح پہلی دو بھی ایک ہی کے متعلق ہیں۔پھر بتایا کہ آتشی شریعت اس کے ساتھ ہوگی۔اس میں یہ خبر ہے کہ وہ فاران کی پہاڑیوں سے جو مکہ کے گرد کے پہاڑ ہیں دس ہزار قد وسیوں سمیت آئے گا اور آتشی شریعت اس کے ہاتھ میں ہوگی۔اس پیشگوئی میں یہ بتایا گیا ہے کہ ( 1 ) وہ نبی مکہ سے نکالا جائے گا کیونکہ پہلے بتایا کہ وہ مکہ میں پیدا ہوگا۔پھر کہا کہ دس ہزار قد وسیوں کے ساتھ آیا۔جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ پہلے وہ مکہ سے نکالا جائے گا۔(2) یہ کہ کچھ عرصہ کے بعد وہ ایک لشکر کے ساتھ مکہ پر حملہ آور ہوگا۔(3) یہ کہ اس کے ساتھ دس ہزار سپاہی ہوں گے۔(4) یہ کہ وہ لوگ قدوسی ہوں گے یعنی يُزَكِّيهِمْ کے مصداق ہوں گے۔(5 ) یہ کہ اس کے ساتھ گناہ سوز شریعت ہوگی۔یہ يُعَلِّمُهُمُ الكتب وَالْحِكْمَةَ کا ترجمہ ہے۔جب انسان کو معلوم ہو کہ فلاں حکم کے ماننے میں میرا فائدہ ہے تو اس پر عمل کرتا ہے۔شریعت کا لفظ الکتب سے اور گناہ سوز کا