سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 440
سيرة النبي عمال 440 جلد 3 مفهوم حكمة سے نکلتا ہے۔کیونکہ حکمت معلوم کرنے کے بعد انسان گناہ کے نزدیک جانے سے احتراز کرتا ہے۔سب لوگ جانتے ہیں کہ اس پیشگوئی میں جس واقعہ کا ذکر ہے وہ پورا ہوا۔فاران کی پہاڑیاں تاریخی طور پر ثابت ہے کہ مکہ کی پہاڑیاں ہیں۔حضرت خلیفہ اول فرمایا کرتے تھے کہ وادی فاطمہ میں (وادی فاطمہ مکے اور مدینے کے درمیان ایک پڑاؤ ہے ) گل جذیمہ یعنی پنجہ مریم بیچنے والوں سے پوچھو کہ وہ پھول کہاں سے لاتے ہیں تو لڑکے اور بچے بھی یہی کہیں گے کہ مِنْ بَرِيَّةِ فَارَانَ یعنی دشتِ فاران سے 4۔بائبل میں بھی ایسے حوالے موجود ہیں جن سے اشارہ ثابت ہوتا ہے کہ وادی فاران یہی ہے۔رسول کریم ﷺ کے بارہ میں اس کے بعد اور چار سو سال صلى الله گزرتے ہیں اور حضرت سلیمان حضرت سلیمان علیہ السلام کی پیشگوئی علیہ السلام آتے ہیں تو وہ بھی محمد رسول اللہ ﷺ کی تعریف کے گیت گاتے ہیں۔چنانچہ فرماتے ہیں۔اے یروشلم کی بیٹیو! ( یعنی بنی اسرائیل) میں تمہیں قسم دیتی ہوں کہ اگر تمہیں میرا محبوب ( مراد صلى الله رسول کریم ﷺ ) مل جائے تو تم اسے کہیو کہ میں عشق کی بیمار ہوں“ 5۔وہ جواب دیتی ہیں۔تیرے محبوب کو دوسرے محبوبوں کی نسبت سے کیا فضیلت ہے۔اے تو جو عورتوں میں جمیلہ ہے تیرے محبوب کو دوسرے محبوب سے کیا فضیلت ہے جو تو ہمیں ایسی قسم دیتی ہے۔اس پر وہ فرماتے ہیں:۔” میرا محبوب سرخ و سفید ہے۔دس ہزار آدمیوں کے درمیان وہ جھنڈے کی مانند کھڑا ہوتا ہے۔اس کا سر ایسا ہے جیسے چوکھا سونا۔اس کی زلفیں بیچ در پیچ ہیں اور کوے کی سی کالی ہیں۔اس کی آنکھیں ان کبوتروں کی مانند ہیں جواب دریا دودھ میں