سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 438
سيرة النبي علي 438 جلد 3 بلکہ آپ جو کہتے تھے فوراً اس پر عمل کرتے خواہ موت سامنے نظر آتی اور خوشی خوشی آپ کے لئے جانیں دے دیتے۔غرض یہ کتنی بڑی بات بتائی کہ وہ ایک دو کی نہیں بلکہ قوم کی قوم کی کایا پلٹ دے گا۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ اس پیشگوئی کے دو ہزار سال بعد مکہ موجود تھا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسل موجود تھی۔ہو سکتا تھا کہ نسل موجود ہوتی مگر انہیں پتہ نہ ہوتا کہ کس کی اولاد ہیں مگر خدا تعالیٰ نے ایسا انتظام کر دیا کہ بائبل میں بھی ذکر کر دیا کہ یہ ابراہیم کی نسل ہے۔اس طرح ان میں یہ احساس بھی قائم رکھا کہ وہ حضرت ابراہیم کی اولاد ہیں۔پھر ان میں رسول کریم ﷺے پیدا ہوئے ، آپ نے نبوت کا دعوی کیا اور اس قوم کی کایا پلٹ دی۔رسول کریم مال کے بارہ پھر ہم کچھ اور نیچے آ جاتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ کے وجود کو پھر میں حضرت موسی کی پیشگوئی دنیاکے سامنے لایا جاتا ہے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام پر چھ سو سال گزرنے کے بعد حضرت موسی علیہ السلام ظاہر ہوتے ہیں۔اور وہ آپ کے متعلق خدا تعالیٰ کی یہ بات بتاتے ہیں :۔میں ان کے لئے ان کے بھائیوں میں سے تجھ سا ایک نبی بر پا کروں گا۔اور اپنا کلام اس کے منہ میں ڈالوں گا 2۔اس سے ابراہیمی دعا کی تصدیق کی گئی۔حضرت اسحاق حضرت اسمعیل کے بھائی تھے اور حضرت موسی حضرت اسحاق کی اولاد تھے اور رسول کریم اللہ حضرت اسمعیل کی اولاد سے۔گویا ان کے بھائیوں سے رسول کریم ﷺ کو کھڑا کیا گیا اور اس طرح رسوسال کے بعد پھر ابراہیمی وعدہ کا تکرار کیا گیا۔گویا اس میں پھر حضرت اسمعیل کی نسل کے قائم رہنے اور ان میں سے ایک نبی کے مبعوث ہونے کی خبر دی جاتی ہے۔پھر اس شخص کے متعلق ایک اور امر بیان کیا جاتا ہے کہ:۔