سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 429
سيرة النبي عمال 429 جلد 3 کہ وہ نقا میں اوڑھ کر جنگ کیا کرتے تھے حالانکہ کبھی نقاب ڈال کر بھی لڑائی کی جاسکتی ہے؟ چونکہ ان کی داڑھیاں ہوتی تھیں اس لئے وہ ڈھائے باندھ لیتے جس کی وجہ۔سے ان کے چہرے پوشیدہ ہو جاتے۔جب یہ انصاری نوجوان نکلے اور مقابلہ کرنے والوں نے پوچھا تم کون ہو؟ کیونکہ وہ پہچانتے نہ تھے تو انہوں نے جواب دیا کہ ہم انصار میں سے ہیں۔اس پر وہ بول اٹھے کہ تعجب ہے مکہ سے نکل کر ہماری قوم کے لوگ ایسے بد تہذیب ہو گئے ہیں کہ ہمارے مقابلہ میں بجائے سپاہیوں کے زمینداروں کو بھیجتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم لڑنے کے لئے تیار نہیں ہم مکہ کے سردار ہیں ہمارے ساتھ سردار ہی آکر لڑیں۔وہ لوگ رسول کریم ﷺ کی خدمت میں واپس آگئے اور کہا یا رسول اللہ ! وہ تو اس بنا پر لڑائی سے انکار کر رہے ہیں۔فرمایا اچھا الله تمہاری بجائے اور آدمیوں کو بھیجا جاتا ہے۔تب رسول کریم ﷺ نے تین سپاہی بھیجے جن میں سے ایک حضرت علیؓ اور ایک حضرت حمزہ تھے۔جب یہ گئے تو کفار نے پھر پوچھا کہ تم کون ہو؟ کیونکہ ڈھائے باندھے ہوئے تھے اور شکلیں نظر نہیں آتی تھیں۔انہوں نے بتایا کہ ہم علی اور حمزہ ہیں تیسرے کا نام مجھے یاد نہیں رہا1۔اس پر انہوں نے کہا ہاں اب تم ہمارے مد مقابل ہو ہم تم سے لڑیں گے۔یہ واقعہ اس لئے بتایا ہے کہ جنگ بدر کے موقع پر خود دشمن محسوس کرتا تھا کہ مسلمانوں میں سے ایک بڑی تعداد فنون جنگ سے ناواقف ہے اور ایسی نا واقف کہ مکہ والے آپ ہی ان سے لڑائی کرنا اپنی ہتک خیال کرتے۔یہ حالات تھے جو مسلمانوں کے متعلق پائے جاتے تھے اور ظاہری سامانوں کے لحاظ سے کلّی طور پر مایوسی نظر آ رہی تھی۔ادھر مکہ کے لوگوں کو اپنی طاقت وقوت پر اتنا گھمنڈ تھا کہ بعض ان میں سے اپنے ساتھیوں سے اپیل کرتے کہ آخر یہ مسلمان ہمارے رشتہ دار ہی ہیں ان سے نہیں لڑنا چاہئے۔گویا مکہ والے اسے لڑائی نہیں سمجھتے تھے بلکہ وہ خیال کرتے تھے کہ ہم چند منٹوں میں ہی ان سب کو قتل کر دیں گے اس لئے کہتے اپنے کمزور بھائیوں کو میدان میں مار ڈالنا اچھی بات نہیں۔۔