سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 428
سيرة النبي علي 428 جلد 3 رسول کریم اللہ کا زندہ خدا سے تعلق خدا رسول حضرت مصلح موعود 23 دسمبر 1932 ء کو خطبہ جمعہ دیتے ہوئے فرماتے ہیں:۔بدر کی جنگ کے موقع پر صرف تین سو مسلمان سپاہی تھے اور ان میں سے بھی بہت سے ناتجربہ کار اور جنگی فنون کے لحاظ سے حقیر سمجھے جاتے تھے۔ان میں مہاجرین کی تعداد کم تھی اور انصار زیادہ تھے اس طرح مسلمان سپاہیوں کا اچھا خاصہ حصہ ایسا تھا جو جنگی فنون سے ناواقف تھا۔یہ مدینہ کے وہ لوگ تھے جن کا کام زیادہ تر کھیتی باڑی تھا۔عرب کے لوگ ایسے لوگوں کو حقیر سمجھا کرتے تھے کیونکہ عرب میں عزت تلوار کی وجہ سے حاصل ہوا کرتی تھی۔چونکہ وہ تلوار کے دھنی نہ تھے اس لئے حقیر اور ذلیل سمجھے جاتے۔جب بدر کی جنگ کے موقع پر عرب کے بعض جرنیل مقابل میں نکلے تو اُس وقت کے طریق کے مطابق جو یہ تھا کہ پہلے اکیلے اکیلے نبرد آزمائی کرتے اور پھر فوج، فوج پر حملہ کر دیتی۔عتبہ، شیبہ اور ولید تین جرنیل مکہ والوں کی طرف سے میدان میں آئے اور انہوں نے کہا هَلْ مِنْ مُّبَارِزِ ؟ کیا تم میں سے کوئی ہے جو ہما را مقابلہ کرے؟ انصار اُس وقت یہ خیال کرتے تھے کہ رسول کریم ﷺ کی حفاظت ہمارے ذمہ ہے کیونکہ ہم آپ کو اپنے ہاں لائے ہیں اس لئے پیشتر اس کے کہ مہاجرین میں سے کوئی نکلتا تین انصاری مسلمانوں میں سے نکل آئے۔جن میں سے دو پندرہ پندرہ برس کے نوجوان تھے۔کفار کے جرنیلوں نے پوچھا تم کون ہو؟ اُس وقت قاعدہ یہ ہوتا تھا اور اب بھی ہے کہ داڑھی والے ڈھاٹا باندھ لیتے تھے۔انہوں نے اسی طرح کیا ہوا تھا جس کی وجہ سے ان کی شکلیں پہچانی نہ جاتی تھیں۔تاریخوں والے غلطی سے لکھتے ہیں