سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 430
سيرة النبي علي 430 جلد 3 صلى الله غرض جنگی لحاظ سے مسلمانوں کی یہ حالت تھی مگر رسول کریم ﷺے بجائے اس کے کہ میدان جنگ کے متعلق فکر کرتے ایک گوشہ میں بیٹھے ہوئے اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگ رہے تھے اور بار بار آپ پر رقت کا عالم طاری ہو جاتا اور آپ فرماتے اے خدا! یہ شیطان سے تیری فوج کی آخری جنگ ہے۔اگر اس میں تیرے مومن بندوں نے شکست کھائی اور یہ مارے گئے تو پھر تیرے نام لیوا دنیا سے مٹ جائیں گے۔پس اے خدا! میں تیری توحید اور تفرید کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ تو ان کو کامیاب کر2۔غرض لوگ جس وقت نیزے کی انی تیز کر رہے ہوتے ہیں، جب وہ تلواروں کے جھنکارنے میں مشغول ہوتے ہیں جب وہ دیگر آلات حرب کو درست کر رہے ہوتے ہیں اُس وقت محمد ﷺ کی نظر میں اگر کوئی تلوار، اگر کوئی نیزہ اور اگر کوئی تیر کام کرنے والا تھا تو وہ اللہ اور اس کے حضور عاجزانہ دعا تھی۔یہ وہ حقیقی عبادت ہے جس کی اسلام بہت تاکید کرتا ہے۔عبادت وہ نہیں کہ انسان کبھی مندر میں گیا یا کبھی مسجد میں اور پھر ذراسی ٹھوکر لگنے پر اپنے ایمان کی ساری پونچھی فروخت کر ڈالی اور کہہ دیا کہ جاؤ ہم ایسے اسلام کو قبول نہیں کر سکتے۔بلکہ عبادت وہ ہے کہ جس وقت انسان کے چاروں طرف عبادت سے روکنے والے اسباب اکٹھے ہوں اس وقت سب سے زیادہ عبادت پر زور دے اور سمجھے کہ اگر کوئی ذریعہ نجات دینے والا ہے تو وہ عبادت ہی ہے۔یہ تو قومی خطرہ کی مثال تھی اب میں ایک نفسی خطرہ کی مثال بھی سنا دیتا ہوں۔رسول کریم ﷺ ایک جنگ سے واپس آرہے تھے کہ دشمنوں میں سے ایک شخص نے قسم کھائی کہ محمد ﷺ کو ضرور قتل کروں گا۔آپ راستہ میں ایک جگہ قیلولہ کے لئے ٹھہرے اور ایک درخت کے نیچے لیٹ گئے۔باقی تمام صحابی بھی مختلف جگہوں میں آرام کرنے کے لئے پھیل گئے۔انہیں اس امر کا خیال نہیں تھا کہ کوئی دشمن ہمارے تعاقب میں آ رہا ہے۔رسول کریم ﷺے درخت کے نیچے سور ہے یا اونگھ رہے تھے کہ دشمن نے تلوار کھینچ کر آواز دی مگر نہ معلوم اسے کیا خیال آیا کہ اس نے جگا کر پوچھا بتاؤ