سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 426 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 426

سيرة النبي علي 426 جلد 3 کا ذریعہ ہے۔بظاہر یہ ایک چھوٹا سا جملہ ہے جس میں اس خاص سلامتی کا ذکر ہے جس کے متعلق قرآن میں آتا ہے کہ جب قیامت کے دن جنتی جنت میں داخل ہوں گے تو اللہ تعالیٰ کہے گا سَلَامٌ عَلَيْكُمُ طِبْتُمُ یعنی جو سلامتی تمہارے لئے مقدر تھی وہ یہی ہے۔گویا جب ہم اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمُ کہتے ہیں تو اس سلامتی کے ملنے کی دعا کرتے ہیں جس کا وعدہ قرآن کریم میں کیا گیا ہے۔غرض یہ ایک دعا ہے جس کے معنی ہیں کہ تمہاری نیکیاں زیادہ ہوں، خدا تعالیٰ تمہاری بدیوں کو مٹائے ، تمہیں جنت میں داخل کرے اور اس کے فرشتے تمہیں سلام پہنچائیں۔چکڑالوی اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ کے بجاۓ سَلَامٌ عَلَيْكُمُ کہتے ہیں اور اس کی وجہ یہ بتاتے ہیں کہ السَّلَامُ عَلَيْكُمُ قرآن میں نہیں آیا۔لیکن مجھ سے اگر کوئی پوچھے تو میں کہوں گا کہ اگر کوئی شخص ساری عمر بلکہ اس کی اولاد بھی مجھے سَلَامٌ عَلَيْكُمْ کہتی رہے تو میں ایک بار کے اَلسَّلامُ عَلَيْكُم کی قیمت بھی اس سے بہت زیادہ سمجھوں گا۔کیونکہ سَلَامٌ عَلَيْكُمْ میں اپنا سلام ہے اور السَّلَامُ عَلَيْكُمْ میں اللہ تعالیٰ کا سلام ملنے کی دعا ہے۔پس یہ معمولی چیز نہیں۔سلام کہنا اور جواب دینا قوم میں اتحاد و اتفاق اور برکت کا موجب ہے اور نہ صرف اپنے لئے بلکہ اپنی اولاد کے لئے بھی ہے۔اور جو برکت ذرا سی زبان ہلا دینے سے ملتی ہوا سے نہ لینا بڑی حماقت ہے۔اگر چہ ایسی شکایت میں اتنا مبالغہ ہے کہ جو جھوٹ کی حد تک پہنچ جاتا ہے لیکن پھر بھی شکایت کرنے والے پاگل نہیں ہیں اور بعض ایسے لوگوں کی طرف سے بھی شکایت پہنچی ہے جن کی راستبازی میں شبہ کی گنجائش نہیں۔اس لئے میں سمجھتا ہوں دو چار ایسے لوگ ضرور ہیں جن میں یہ نقص ہے۔اور جن میں یہ نقص ہو میں انہیں نصیحت کرتا ہوں کہ وہ اسے دور کریں اور مفت نیکی حاصل کرنے سے محروم نہ رہیں۔صحابہ تو نیکی کا اتنا خیال رکھتے تھے کہ ایک دفعہ ایک صحابی نے بیان کیا کہ رسول کریم ﷺ فرماتے تھے اگر کوئی شخص کسی مومن کا جنازہ پڑھے اور میت کے ساتھ قبرستان تک جائے تو اسے بہت بڑا ثواب ملتا ہے۔اس پر صحابہ نے کہا