سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 425 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 425

سيرة النبي عمال 425 جلد 3 دینا چاہئے۔ہاں ایک اور صورت ہے مثلاً میں اب پانچ منٹ میں یہاں تک پہنچ سکا ہوں اس اثنا میں قریباً اڑھائی سو لوگوں نے مصافحے کئے ہوں گے اور پھر کئی ایسے ہاتھ تھے جن کے ہاتھ دوسروں سے ملے ہوئے تھے۔رسول کریم ع کا طریق تھا کہ ایسے موقع پر آپ تین دفعہ السَّلَامُ عَلَيْكُمُ کہہ دیتے۔کیونکہ سب کو علیحدہ علیحدہ جواب دینا ایسے موقع پر مشکل ہوتا ہے اس لئے اکٹھا ہی جواب دیا جا سکتا ہے اور اگر ایسا نہ کیا جائے تو کھڑے ہو کر ہر ایک کو جواب دینا تکلیف مالا يطاق بلکہ مضحکہ خیز بھی ہے۔مگر یہ موقع ہر بار مجھے بھی پیش نہیں آتا اور دوسروں کو تو بالکل ہی نہیں آتا ہو گا اور ایسی صورت کے سوا سلام کا جواب ضرور دینا چاہئے۔بلکہ رسول کریم ﷺ تو اس قدر احتیاط کرتے تھے کہ اکثر آپ خود ابتدا کرتے تھے۔چونکہ آپ معلم تھے اس لئے اگر بچوں کے پاس سے گزرتے تو ان کو بھی اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمُ کہتے اور اس طرح انہیں سلام کہنا سکھاتے۔لیکن اگر ایک ہیڈ ماسٹر گزرتا ہے بچے اسے سلام کہتے ہیں اور وہ جواب نہیں دیتا تو وہ یہی سمجھیں گے کہ جواب نہیں دینا چاہئے۔کیونکہ بچے وہی کرتے ہیں جو بڑوں کو کرتا دیکھیں۔ہمارے گھر میں چونکہ عام طور وہ دیکھتے ہیں اس لئے ایسی عادت ہو گئی ہے کہ جب میں جاتا ہوں اس کثرت کے ساتھ السّلامُ عَلَيْكُمُ کہنے لگ جاتے ہیں کہ مجھے بعض اوقات انہیں ڈانٹنا پڑتا ہے۔باری باری بچے ابا جان! اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ ابا جان ! اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ کہنا شروع کر دیتے ہیں اور جب ایک دور ختم ہو جائے تو دوبارہ شروع کر دیتے ہیں۔لیکن اگر ماں باپ یا ہیڈ ماسٹر کو وہ دیکھیں کہ سلام نہیں کرتے تو وہ بھی اس کے عادی نہیں ہو سکتے۔پس ناظر ، ہیڈ ماسٹر، استاد اور دوسرے افسروں کو چاہئے کہ پہلے خود سلام کیا کریں تا دوسروں کو رغبت ہو۔حضرت انس رسول کریم ﷺ کے خادم تھے۔وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول کریم علیہ نے فرمایا جب گھر میں آؤ تو السّلامُ عَلَيْكُم کی اس سے گھر والوں کو تمہیں اور تمہارے اہل بیت کو برکت ملے گی 2۔اور محبت بڑھانے