سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 424 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 424

سيرة النبي علي 424 جلد 3 رسول کریم ﷺ کی السلام علیکم کہنے کی عادت اور نصیحت حضرت مصلح موعود 16 دسمبر 1932ء کے خطبہ جمعہ میں فرماتے ہیں:۔صلى الله رسول کریم ﷺ کو سلام اس قدر پیارا تھا کہ آپ نہ صرف خود کرتے بلکہ دوسروں کو بھی تاکید کرتے اور فرماتے کہ جو سلام کرتا ہے اسے دس نیکیاں ملتی ہیں اور آدمی کا دماغ ، ہاتھ ، کان سب مشغول ہوں تب بھی وہ منہ سے سلام کہہ کر دس نیکیاں حاصل کر سکتا ہے۔گویا دوسرے کام میں مشغول ہوتے ہوئے بھی وہ دس نیکیاں حاصل کر سکتا ہے۔فرض کرو تم دس گناہ کرتے ہو۔اگر ایک سلام محبت سے کر دو تو وہ سب زائل ہو جائیں گے بشرطیکہ گناہ بھی ایسا ہو جیسا سلام کرنے کی نیکی ہے۔رسول کریم ﷺ کی مجلس میں ایک شخص آیا اس نے کہا السَّلَامُ عَلَيْكُمْ۔آپ نے فرمایا عشر۔دوسرا آیا اور کہا اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَ رَحْمَةُ اللهِ۔آپ نے فرمایا عِشْرُونَ۔تیرا آیا اور کہا السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَ رَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ۔آپ نے فرمایا ثَلاثُونَ۔صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! اس کا کیا مطلب ہے؟ آپ نے فرمایا جس نے السّلامُ عَلَيْكُمُ کہا اس کے نام دس نیکیاں جس نے اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَ رَحْمَةُ الله کہا اس کے نام ہیں نیکیاں اور جس نے اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَ رَحْمَةٌ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ کہا اس کے نام میں نیکیاں لکھی گئیں 1۔اور جب ایک لفظ سے دس نیکیاں ملتی ہوں تو وہ کون بے وقوف ہے جو نہ لے۔سلام کا جواب بھی اونچی آواز سے