سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 404 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 404

سيرة النبي علي 404 جلد 3 کیا جا سکتا ہے جس نے بادشاہ ہو کر یہ نمونہ دکھایا ہو کہ اپنے گھر کے کام کے لئے ایک نوکر بھی نہ ہو۔اگر کسی نے دکھایا ہے تو وہ بھی آپ کے خدام میں سے ہوگا۔کسی وسرے بادشاہ نے جو آپ کی غلامی کا فخر نہ رکھتا ہو یہ نمونہ کبھی نہیں دکھایا۔ایسے بھی مل جائیں گے جنہوں نے دنیا سے ڈر کر اسے چھوڑ ہی دیا۔ایسے بھی ہوں گے جو دنیا میں پڑے اور اسی کے ہو گئے۔مگر یہ نمونہ کہ دنیا کی اصلاح کے لئے اس کا بوجھ اپنے کندھوں پر بھی اٹھائے رکھا اور ملکوں کے انتظام کی باگ اپنے ہاتھ میں رکھی مگر پھر بھی اس سے الگ رہے اور اس سے محبت نہ کی اور بادشاہ ہو کر فقر اختیار کیا۔یہ بات آنحضرت علی اور آپ کے خدام کے سوا کسی میں نہیں پائی جاتی۔جن لوگوں کے پاس کچھ تھا ہی نہیں وہ اپنے رہنے کے لئے مکان بھی نہ پاتے تھے اور دشمن جنہیں کہیں چین سے نہیں رہنے دیتے تھے کبھی کہیں اور کبھی کہیں جانا پڑتا تھا ان کے ہاں کی سادگی کوئی اعلیٰ نمونہ نہیں۔جس کے پاس ہو ہی نہیں اس نے شان و شوکت سے کیا رہنا ہے۔مگر ملک عرب کا بادشاہ ہو کر لاکھوں روپیہ اپنے ہاتھ سے لوگوں میں تقسیم کر دینا اور گھر کا کام کاج بھی خود کرنا یہ وہ بات ہے جو اصحاب بصیرت کی توجہ کو اپنی طرف کھینچے بغیر نہیں رہ سکتی۔“ (الفضل 6 نومبر 1932ء) صلى الله 1:بخارى كتاب الاذان باب من اخف الصلوة عند بكاء الصبى صفحہ 116 حدیث نمبر 707 مطبوعہ ریاض 1999 ء الطبعة الثانية 2 بخاری كتاب الصلوة باب الصلوة فى النعال صفحه 68 حدیث نمبر 386 مطبوعہ ریاض 1999 الطبعة الثانية 3: بخارى كتاب الاطعمة باب الرجل يتكلف الطعام لاخوانه صفحه 969 حدیث نمبر 5434 مطبوعہ ریاض 1999 الطبعة الثانية 4 بخارى كتاب الاذان باب من كان فى حاجة اهله فاقيمت الصلوة فخرج صفحه 110 حدیث نمبر 676 مطبوعہ ریاض 1999 الطبعة الثانية