سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 403
سيرة النبي عمال 403 جلد 3 گھر کا کام خود کرنا علاوہ اس کے کہ آپ کے اردگرد بادشاہوں کی زندگی کا نمونہ تھا وہ ایسا نہ تھا کہ اس سے آپ وہ تاثرات حاصل کرتے جن کا اظہار آپ کے اعمال کرتے ہیں۔یہ بات بھی قابل غور ہے کہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے ایسا درجہ دے دیا تھا کہ اب آپ تمام مخلوقات کے مرجع افکار ہو گئے تھے اور ایک طرف روم آپ کی بڑھتی ہوئی طاقت کو اور دوسری طرف ایران آپ کے ترقی کرنے والے اقبال کو شک وشبہ کی نگاہوں سے دیکھ رہا تھا اور دونوں متفکر تھے کہ اس سیلاب کو روکنے کے لئے کیا تدبیر اختیار کی جائے اس لئے دونوں حکومتوں کے آدمی آپ کے پاس آتے جاتے تھے اور ان کے ساتھ خط و کتابت کا سلسلہ شروع تھا۔ایسی صورت میں بظاہر ان لوگوں پر رعب قائم کرنے کے لئے ضروری تھا کہ آپ بھی اپنے ساتھ ایک جماعت غلاموں کی رکھتے اور اپنی حالت ایسی بناتے جس سے وہ لوگ متاثر اور مرعوب ہوتے مگر آپ نے کبھی ایسا نہ کیا۔غلاموں کی جماعت تو الگ رہی گھر کے کام کاج کے لئے بھی کوئی نوکر نہ رکھا اور خود ہی سب کام کر لیتے تھے۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی نسبت لکھا ہے کہ اَنَّهَا سُئِلَتْ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَالِهِ وَسَلَّمَ مَا كَانَ يَصْنَعُ فِي بَيْتِهِ قَالَتْ كَانَ يَكُونُ فِى مِهْنَةِ أَهْلِهِ تَعْنِي فِي خِدْمَةِ أَهْلِهِ فَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلوةُ خَرَجَ إِلَى الصَّلوة 4 يعنی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا گیا کہ نبی کریم نے گھر میں کیا کرتے تھے؟ آپ نے جواب دیا کہ آپ اپنے اہل کی مہنت کرتے تھے یعنی خدمت کرتے تھے۔پس جب نماز کا وقت آ جاتا تو آپ نماز کے لئے باہر چلے جاتے تھے۔اس حدیث سے پتہ لگتا ہے کہ آپ کس سادگی کی زندگی بسر فرماتے تھے اور بادشاہت کے باوجود آپ کے گھر کا کام کاج کرنے والا کوئی نوکر نہ ہوتا بلکہ آپ اپنے خالی اوقات میں خود ہی اپنی ازواج مطہرات کے ساتھ مل کر گھر کا کام کاج کروا دیتے۔اللہ اللہ کیسی سادہ زندگی ہے، کیا بے نظیر نمونہ ہے، کیا کوئی انسان بھی ایسا پیش