سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 405 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 405

سيرة النبي علي 405 جلد 3 رسول کریم ﷺ نے صحیح تمدن کی بنیا د رکھی الله 6 نومبر 1932ء کو قادیان میں سیرت النبی ﷺ کا جلسہ منعقد ہوا جس میں حضرت مصلح موعود نے تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد جو خطاب فرمایا وہ درج ذیل ہے:۔يُسَبِّحُ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِينَ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمْ أَيْتِهِ وَ يُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَبَ وَالْحِكْمَةَ وَ إِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِي ضَلْلٍ مُّبِيْنٍ وَأَخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ ذَلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيْهِ مَنْ يَشَاءُ وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ 1 - پیچش کی وجہ سے مجھے طبی اجازت تو نہیں تھی کہ اس موقع پر کچھ کہتا لیکن دنیا میں انسان ہر وقت دلیل کے تابع نہیں ہوتا بلکہ کبھی جذبات کے تابع بھی ہوتا ہے اور یہ جذبات اور عقل کا جال ایسے رنگ میں پھیلا ہوا ہے کہ اس میں صحیح امتیاز اور فرق کرنا بہت ہی مشکل ہے۔پس میرے جذبات نے عقل کی بات ماننے سے انکار کر دیا اور اسے یہی جواب دیا کہ تیرے لئے ایسے حکم چلانے کے اور بہت سے مواقع ہیں آج ہمیں اپنا کام کرنے دو۔تم اپنے لئے کوئی اور موقع تلاش کر لینا۔اور اس میں شبہ کیا ہے کہ ایسے وجود کے ذکر کے موقع پر جس کی زندگی جہاں ایک طرف عقل و خرد کی بہترین مثال ہے وہاں اس کے ذریعہ جذبات کا بھی نہایت پاکیزہ طور پر ظہور ہوا اور یہ جذباتی تمثال ایسی ہے جس کے متعلق کہا گیا ہے کہ