سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 402 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 402

سيرة النبي علي 402 جلد 3 آرام و آسائش کے سامانوں کی ترقی کمال درجہ کو پہنچ چکی ہے نگاہ حیرت سے دیکھا جاتا ہے۔دربار ایران میں شاہان ایران جس شان و شوکت کے ساتھ بیٹھنے کے عادی تھے اور اس کے گھروں میں جو کچھ سامان طرب جمع کئے جاتے تھے اسے شاہ نامہ کے پڑھنے والے بھی بخوبی سمجھ سکتے ہیں اور جنہوں نے تاریخوں میں ان سامانوں کی تفصیلوں کا مطالعہ کیا ہے وہ تو اچھی طرح سے ان کا اندازہ کر سکتے ہیں۔اس سے بڑھ کر اور کیا ہوگا کہ دربار شاہی کے قالین میں بھی جواہرات اور موتی ٹنکے ہوئے تھے اور باغات کے نقشہ کو زمردوں اور موتیوں کے صرف سے تیار کر کے میدان دربار کو شاہی باغوں کا مماثل بنا دیا جاتا تھا۔ہزاروں خدام اور غلام شاہ ایران کے ساتھ رہتے اور ہر وقت عیش وعشرت کا بازار گرم رہتا تھا۔رومی بادشاہ بھی ایرانیوں سے کم نہ تھے اور وہ اگر ایشیائی شان وشوکت کے شیدا نہ تھے تو مغربی آرائش و زیبائش کے دلدادہ ضرور تھے۔جن لوگوں نے رومیوں کی تاریخ پڑھی ہے وہ جانتے ہیں کہ رومیوں کی حکومتوں نے اپنی دولت کے ایام میں دولت کو کس کس طریق پر خرچ کیا ہے۔پس عرب جیسے ملک میں پیدا ہو کر جہاں دوسروں کو غلام بنا کر حکومت کرنا فخر سمجھا جاتا تھا اور جو روم و ایران جیسی مقتدر حکومتوں کے درمیان واقع تھا کہ ایک طرف ایرانی عیش و عشرت اسے لبھا رہی تھی تو دوسری طرف رومی زیبائش و آرائش کے سامان اس کا دل اپنی طرف کھینچ رہے تھے آنحضرت ﷺ کا بادشاہ عرب بن جانا اور پھر ان باتوں میں سے ایک سے بھی متاثر نہ ہونا اور روم و ایران کے دام تزویر سے صاف بچ جانا اور عرب کے بت کو مار کر گرا دینا کیا یہ کوئی ایسی بات ہے جسے دیکھ کر پھر بھی کوئی دانا انسان آپ کے پاک بازوں کے سردار اور طہارت النفس میں کامل نمونہ ہونے میں شک کر سکے۔نہیں ! ایسا نہیں ہو سکتا۔