سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 401 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 401

سيرة النبي علي 401 جلد 3 نصیب تھی اور دنیا کی حکومت بھی حاصل تھی مگر پھر بھی وہ اپنے اخراجات میں ایسا کفایت شعار اور سادہ تھا اور پھر بخیل نہیں بلکہ دنیا نے آج تک جس قدرسخی پیدا کئے ہیں ان سب سے بڑھ کر سخی تھا۔امرا کی حالت جن کو اللہ تعالی مال و دولت دیتا ہے ان کا حال لوگوں سے پوشیدہ نہیں۔غریب سے غریب ممالک میں بھی نسبتاً امراء کا گروہ موجود ہے۔حتی کہ جنگلی قوموں اور وحشی قبیلوں میں بھی کوئی نہ کوئی طبقہ امرا کا ہوتا ہے اور ان کی زندگیوں میں اور دوسرے لوگوں کی زندگیوں میں جو فرق نمایاں ہوتا ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔خصوصاً جن قوموں میں تمدن بھی ہوان میں تو امرا کی زندگیاں ایسی پر عیش و عشرت ہوتی ہیں کہ ان کے اخراجات اپنی حدود سے بھی آگے نکل جاتے ہیں۔عرب سرداروں کی حالت آنحضرت ﷺے جس قوم میں پیدا ہوئے وہ بھی فخر وکیلا میں خاص طور پر مشہور تھی اور حشم و خدم کو مایہ ناز جانتی تھی۔عرب سردار با وجود ایک غیر آباد ملک کے باشندہ ہونے کے بیسیوں غلام رکھتے اور اپنے گھروں کی رونق کے بڑھانے کے عادی تھے۔عرب کی دو ہمسایہ قوموں کے بادشاہوں کی حالت عرب کے اردگرد دو قو میں ایسی بستی تھیں کہ جو اپنی طاقت و جبروت کے لحاظ سے اُس وقت کی گل معلومہ دنیا پر حاوی تھیں۔ایک طرف ایران اپنی مشرقی شان و شوکت کے ساتھ اپنے شاہانہ رعب و داب کو گل ایشیا پر قائم کئے ہوئے تھا تو دوسری طرف روم اپنے مغربی جاہ وجلال کے ساتھ اپنے حاکمانہ دست تصرف کو افریقہ اور یورپ پر پھیلائے ہوئے تھا۔اور یہ دونوں ملک عیش و طرب میں اپنی حکومتوں کو کہیں پیچھے چھوڑ چکے تھے اور آسائش و آرام کے ایسے ایسے سامان پیدا ہو چکے تھے کہ بعض باتوں کو تو اب اس زمانہ میں بھی کہ