سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 390
سيرة 390 جلد 3 پہلے میرے ساتھی کو پانی پلاؤ۔اس ساتھی نے دوسرے کی طرف اشارہ کر دیا اور دوسرے نے تیسرے کی طرف۔وہ سات نوجوان تھے جو زخموں کی وجہ سے دم توڑ رہے تھے مگر کسی نے پانی کو منہ بھی نہ لگایا اور ہر ایک نے یہی کہا کہ پہلے فلاں کو پلاؤ مجھے بعد میں پلا دینا۔جب سب نے انکار کر دیا تو وہ پھر عکرمہ کے پاس آیا۔دیکھا تو وہ فوت ہو چکے تھے۔اس کے بعد اس نے دوسروں کو دیکھا تو وہ بھی شہید ہو چکے تھے 98۔غرض خدا تعالیٰ نے رسول کریم ﷺ کو صرف ظاہری فتح ہی عطا نہیں فرمائی بلکہ ظاہری فتح کے ساتھ قلوب کی فتح بھی عطا کی۔رسول کریم اللہ کا بلند ترین مقام پھر قرآن نہ صرف یہ کہ رسول کریم صلى الله کو بے گناہ قرار دیتا ہے بلکہ نہایت اعلیٰ درجہ کا انسان قرار دیتا ہے۔فرماتا ہے اِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ کوئی یہ نہ کہے کہ ہمارا نبی گنہگار ہے۔اگر دشمن ایسا کہتے ہیں تو وہ سکتے ہیں۔ہم جانتے ہیں کہ تو بڑے اعلیٰ اخلاق والا ہے۔پھر فرمایا اَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ ووالے محمد رسول اللہ ! کیا ہم نے تیرا سینہ کھول نہیں دیا۔پھر فرماتا ہے لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللهِ أَسْوَةٌ حَسَنَةٌ 100 تمہارے لئے محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم ) ایک اعلیٰ درجہ کا نمونہ ہے اس کے پیچھے چل کر تم نجات پاسکتے ہو۔پھر اس سے بھی بڑا درجہ آپ کا یہ بیان فرمایا کہ آپ دوسروں کو پاک کرنے والے ہیں۔فرماتا ہے كَمَا اَرْسَلْنَا فِيكُمْ رَسُوْلًا مِنْكُمْ يَتْلُوا عَلَيْكُمْ أَيْتِنَا وَيُزَكِّيْكُمُ 101۔ہم نے تم میں سے ہی ایک رسول بھیجا ہے۔جو ہماری آیتیں پڑھ کر تمہیں سناتا ہے اور گناہگاروں کو پاک بنا تا ہے۔