سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 341 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 341

سيرة النبي عمال 341 جلد 3 عليسة رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اب سوال یہ ہے کہ کیا رسول کریم میں ہے بے کی ذات کے متعلق بھی اس عام قاعدہ نبوت سے پہلے کی پاکیزہ زندگی کے پورا ہونے کا کہیں ذکر ہے؟ سو اس امر کے متعلق کہ رسول کریم ﷺ کی دعوئی سے پہلی زندگی بالکل پاک اور عیب تھی خدا تعالیٰ فرماتا ہے قُل لَّوْ شَاءَ اللَّهُ مَا تَلَوْتُهُ عَلَيْكُمْ وَلَا اَدْرِيكُمْ بِهِ فَقَدْ لَبِثْتُ فِيكُمْ عُمُرًا مِنْ قَبْلِهِ أَفَلَا تَعْقِلُونَ فرمایا اے محمد ! (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) ان سے کہہ دے کہ اگر اللہ چاہتا تو میں یہ کتاب پڑھ کر تمہیں نہ سناتا۔یعنی اگر اللہ چاہتا تو کتاب ہی نہ بھیجتا اور نہ تمہیں اس تعلیم سے آگاہ کرتا۔تمہیں علم ہے کہ میری زندگی کیسی پاکیزہ گزری ہے۔معمولی عمر نہیں بلکہ چالیس سال کا لمبا عرصہ۔تم اسے جانتے ہو اور اس پر کوئی عیب نہیں لگا سکتے۔پھر کس طرح خیال کر سکتے ہو کہ اب میں نے جھوٹ بنا لیا۔یہ پہلی زندگی کے متعلق رسول کریم کا اعلان ہے اور کفار کے مقابلہ میں اعلان ہے جس کا وہ انکار نہیں کر سکتے تھے۔صلى الله رسول کریم ﷺ کی اتباع میں خدا تعالیٰ کا قرب نبوت کی زندگی کے متعلق ہم قرآن کریم میں لکھا ہوا دیکھتے ہیں کہ لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللهِ أَسْوَةٌ حَسَنَةٌ ؟ یہ رسول اس بات کا اعلیٰ نمونہ ہے کہ قرآن نے اس کی زندگی پر کیا اثر کیا۔اور یہ کسی ایک قوم یا ایک ملک کے لئے نہیں بلکہ ساری دنیا کیلئے نمونہ ہے جس کی انہیں پیروی کرنی چاہئے۔ممکن ہے کوئی کہے کہ باقی انبیاء بھی ایسے ہی ہوں گے اس لئے قرآن کی ایک اور آیت میں پیش کرتا ہوں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيم 1۔یعنی اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) تو ان سے کہہ دے ( یہ الفاظ بھی رسول کریم ع کی کتنی شان بلند کا اظہار کرتے ہیں۔خدا تعالیٰ اپنی طرف سے نہیں